ایک دروازہ جو اس کے اپنے نام سے کھلتا ہو

WhatsApp
Facebook
Twitter
ایک دروازہ جو اس کے اپنے نام سے کھلتا ہو

(فوٹو اے آئی)

بیٹی کا کوئی گھر نہیں ہوتا؟دو دہلیزوں کے درمیان کھڑی عورت کا سماجی، فکری اور انسانی نوحہ ۔ تحریر :جویریہ قاضی ،بھیونڈی ،تھانے،مہاراشٹر

 عجیب بات ہے کہ ایک لڑکی جب دنیا میں آنکھ کھولتی ہے تو سب سے پہلے جس گھر کی چھت کو دیکھتی ہے، جس آنگن میں چلنا سیکھتی ہے، جس ماں کی گود میں سوتی اور جس باپ کی انگلی پکڑ کر دنیا پہچانتی ہے، آہستہ آہستہ اسی گھر کے بارے میں اسے سمجھا دیا جاتا ہے کہ یہ تمہارا اصل گھر نہیں ہے، ایک دن تمہیں اپنے گھر جانا ہے۔پھر ایک دن وہ واقعی چلی جاتی ہے۔ایک چوکھٹ سے دوسری چوکھٹ تک۔ایک نام سے دوسرے نام تک۔ایک خاندان سے دوسرے خاندان تک۔اپنی گڑیا، اپنی کتابیں، اپنے بچپن کی دیواریں، اپنے کمرے کی کھڑکی اور ماں کی آواز پیچھے چھوڑ کر وہ ایک نئی دنیا میں داخل ہوتی ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ اب یہی تمہارا گھر ہے۔وہ کوشش کرتی ہے کہ اس نئے گھر کی دیواروں میں اپنی سانس شامل کر دے۔ اجنبی چہروں کو اپنا بنائے، نئی عادتوں کو قبول کرے، اپنی پسند کو تھوڑا سا پیچھے رکھے، اپنی خواہشوں کو رشتوں کی ضرورت کے مطابق ڈھالے اور پھر ایک دن اس گھر کے ہر کونے سے محبت کرنے لگے۔لیکن زندگی کے کسی تلخ لمحے میں اگر اسے یہ سننا پڑ جائے ، یہ تمہارا گھر نہیں، تم تو بیاہ کر آئی ہو۔تو اس کے اندر برسوں سے آباد ایک دنیا لرز جاتی ہے۔تب سوال پیدا ہوتا ہےاگر باپ کا گھر اس کا نہیں، اور شوہر کا گھر بھی اس کا نہیں، تو آخر بیٹی کا گھر کہاں ہے؟یہ سوال صرف ایک عورت کا نہیں۔یہ ہمارے معاشرے کی سوچ، ہماری روایتوں، ہمارے خاندانی نظام اور ہمارے انصاف کے تصور کا سوال ہے۔
 
بیٹی! گھر کی خوشی، مگر گھر کی مالک نہیں؟ہماری زبانوں اور روایتوں میں بیٹی کے لیے محبت بھرے الفاظ بہت ہیں۔وہ رحمت ہے۔وہ گھر کی رونق ہے۔وہ باپ کی لاڈلی ہے۔وہ ماں کی سہیلی ہے۔لیکن محبت کے ان خوب صورت جملوں کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی چلتی رہی ہے،بیٹی کو اکثر گھر کا فرد تو سمجھا گیا، مگر گھر کے مستقبل اور تحفظ میں برابر کا شریک کم سمجھا گیا۔اس کے لیے بہترین لباس خریدا گیا، شادی پر بڑی رقم خرچ کی گئی، زیور دیا گیا، فرنیچر دیا گیا، رسموں اور دعوتوں میں خاندان کی حیثیت کے مطابق خرچ کیا گیا لیکن بہت کم خاندانوں نے یہ سوچا کہ اس بیٹی کے مستقبل کی اپنی بنیاد کیا ہے؟اگر زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہ رہی تو؟اگر حالات بدل گئے تو؟اگر رشتہ خوش گوار ثابت نہ ہوا تو؟اگر شوہر کی آمدنی ختم ہو گئی تو؟اگر بیٹی کو کبھی تنہا زندگی کا سامنا کرنا پڑا تو؟محبت صرف رخصتی کے دن آنسو بہانے کا نام نہیں۔محبت یہ بھی ہے کہ والدین اپنی بیٹی کو اس قابل بنائیں کہ زندگی کے کسی موڑ پر اسے بے بسی سے یہ نہ کہنا پڑے، میرے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔اسلام نے بیٹی کو بے گھر نہیں کیایہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام نے عورت کو نہ بے حیثیت بنایا، نہ بے اختیار اور نہ بے گھر۔اسلامی تصورِ خاندان میں عورت ایک باعزت انسان ہے۔ اسے مہر کا حق دیا گیا، وراثت میں حصہ دیا گیا، اس کی ذاتی ملکیت کو تسلیم کیا گیا اور اس کے مال پر اس کی ملکیت کو برقرار رکھا گیا۔مہر محض ایک رسمی رقم یا نکاح کے کاغذ پر لکھا جانے والا عدد نہیں، اس کے پیچھے عورت کے مالی حق اور عزت کا تصور موجود ہے۔اسی طرح وراثت میں عورت کا حق کسی کی مہربانی نہیں بلکہ ایک مقرر حق ہے۔
 
لیکن افسوس یہ ہے کہ بعض معاشروں میں مذہب کے نام پر نہیں، بلکہ رسم و رواج کے اثر سے عورت کے ان حقوق کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔کہیں بہن سے کہا جاتا ہے: تمہیں تو شادی میں بہت کچھ دے دیا تھا۔کہیں اس سے کہا جاتا ہے بھا  ئیوں کا گھر ہے، تم اپنا حصہ کیوں مانگتی ہو؟  کہیں   محبت اور شرم کے نام پر اس کے قانونی اور مالی حقوق سے دست بردار ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔یوں ایک طرف بیٹی کو کہا جاتا ہے کہ باپ کا گھر اب اس کا نہیں، دوسری طرف اس کے حقِ وراثت کو بھی خاندان کی محبت کے نام پر بوجھ بنا دیا جاتا ہے۔یہ رویہ نہ صرف سماجی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ انصاف کے بنیادی تصور سے بھی متصادم ہے۔
 
گھر صرف چار دیواری نہیں، تحفظ کا نام ہےیہ ضروری نہیں کہ ہر والد اپنی بیٹی کے نام ایک محل خریدے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار خاندان محدود آمدنی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کرائے کے مکان، مہنگی تعلیم، علاج، روزمرہ اخراجات اور معاشی عدم استحکام کے درمیان ہر خاندان کے لیے الگ مکان خریدنا ممکن نہیں۔لیکن مسئلے کا حل صرف بڑا مکان نہیں۔تحفظ کی منصوبہ بندی بھی ایک گھر کی بنیاد ہو سکتی ہے۔اگر ایک خاندان شادی پر غیر ضروری رسموں اور نمائش پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے اس رقم کا کچھ حصہ بیٹی کی تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت، بچت یا کسی محفوظ سرمایہ کاری کے لیے مختص کرے تو یہ اس کے مستقبل کے لیے زیادہ پائیدار تحفہ ہو سکتا ہے۔مثلاً:بیٹی کی اعلیٰ تعلیم پر سرمایہ کاری کی جائے۔اسے کسی ہنر یا پیشے سے وابستہ کیا جائے۔اس کے نام باقاعدہ بچت کا سلسلہ قائم کیا جائے۔چھوٹے پیمانے پر ایسی قانونی سرمایہ کاری کی جائے جو ضرورت کے وقت اس کے کام آسکے۔اگر خاندان کی استطاعت ہو تو مشترکہ طور پر کوئی چھوٹی جائیداد، رہائشی حصہ یا آمدنی کا ذریعہ پیدا کیا جائے۔یہ ضروری نہیں کہ ہر بیٹی کے لیے والدین الگ گھر بنائیں۔ضروری یہ ہے کہ ہر بیٹی کو زندگی میں مکمل بے سہارگی کے اندھیرے میں نہ چھوڑا جائے۔بیٹی بھی اپنے لیے چراغ جلا سکتی ہے۔
 
یہاں صرف والدین کی ذمہ داری کی بات کرنا بھی کافی نہیں۔نئی نسل کی بیٹیوں کو بھی اپنی زندگی کے مالی اور عملی تحفظ کے بارے میں سوچنا ہوگا۔شادی زندگی کا اہم مرحلہ ضرور ہے، مگر زندگی کا واحد منصوبہ نہیں۔تعلیم، ہنر، بچت اور مالی شعور ہر خاتون  کی زندگی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اگر ایک لڑکی اپنی تعلیم کے دوران یا ملازمت کے بعد تھوڑی تھوڑی بچت شروع کرے، اپنے لیے کوئی چھوٹی سرمایہ کاری کرے، کسی پیشہ ورانہ مہارت کو مستقل بنیاد بنائے، یا مستقبل میں اپنی رہائش اور آمدنی کے لیے منصوبہ بندی کرے تو یہ خود اعتمادی کی بنیاد بن سکتا ہے۔اس کا مطلب خاندان سے علیحدگی یا ازدواجی زندگی سے بے اعتمادی نہیں۔بلکہ اس کا مطلب ہے،محبت کے ساتھ تحفظ، رشتوں کے ساتھ خود اعتمادی اور زندگی کے ساتھ دور اندیشی۔ایک مضبوط عورت وہ نہیں جو ہر رشتہ توڑ کر اکیلی کھڑی ہو۔بلکہ مضبوط عورت وہ بھی ہے جو محبت بھرے رشتوں میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیت، اپنی شناخت اور اپنے بنیادی تحفظ کو قائم رکھے۔مہر کوئی رسم نہیں، ہمارے معاشرے میں مہر کے معاملے میں بھی توازن کی ضرورت ہے۔بہت زیادہ مہر بعض کم آمدنی والے نوجوانوں کے لیے عملی دشواری پیدا کر سکتا ہے، جبکہ بہت معمولی اور غیر سنجیدہ مہر عورت کے حق اور اس کے تحفظ کے مقصد کو کمزور کر دیتا ہے۔لہٰذا ضرورت توازن کی ہے۔ایسا مہر جسے سنجیدگی سے طے کیا جائے، جو محض دکھاوے کے لیے نہ ہو اور جس کی ادائیگی کا عملی امکان بھی موجود ہو۔
 
کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ مہر مناسب ہو، اس کی ادائیگی واضح ہو، اور شادی کے غیر ضروری اخراجات کم کر کے خاندان بیٹی کے مستقبل کے لیے کوئی مستقل بچت یا سرمایہ بھی قائم کرے۔اگر نکاح کے موقع پر ہزاروں اور لاکھوں روپے صرف رسموں میں خرچ کرنے کے بجائے کچھ رقم بیٹی کے نام محفوظ کر دی جائے تو شاید رخصتی کے دن کا سامان کم ہو، مگر زندگی کے سفر کا سامان زیادہ مضبوط ہو۔اصل مسئلہ مکان نہیں، ذہنیت ہےہمارے معاشرے کو سب سے پہلے یہ جملہ بدلنا ہوگا:"بیٹی پرایا دھن ہے۔"
 بیٹی کوئی دھن نہیں جسے ایک گھر سے دوسرے گھر بھیج دیا جائے۔وہ ایک انسان ہے۔اس کی شخصیت ہے۔اس کے حقوق ہیں۔اس کی یادیں ہیں۔اس کی شناخت ہےاور سب سے بڑھ کر اس کی عزت اور تحفظ کا حق ہے۔شادی کے بعد بھی بیٹی اپنے والدین کی بیٹی رہتی ہے۔اس کا والدین کے گھر سے جذباتی اور انسانی تعلق ختم نہیں ہو جاتا،اسی طرح شوہر کے گھر میں بھی اسے محض ایک آنے والی فرد نہیں بلکہ عزت، محبت اور شراکت کے ساتھ خاندان کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔ایک عورت کو زندگی بھر دو گھروں کے درمیان کھڑا رکھنا اور دونوں جگہ اسے یہ احساس دلانا کہ"تم یہاں کی مکمل نہیں ہو"درحقیقت ایک خاموش سماجی ناانصافی ہے۔گھر وہ ہے جہاں واپسی ممکن ہوشاید ہمیں گھر کی تعریف بدلنے کی ضرورت ہے۔گھر صرف وہ مکان نہیں جس کے کاغذات پر کسی کا نام لکھا ہو۔گھر وہ جگہ بھی ہے جہاں انسان کی عزت محفوظ ہو۔جہاں اختلاف کے باوجود رشتہ باقی رہے۔جہاں ناکامی کے بعد دروازہ بند نہ ہو۔جہاں عورت کو پناہ نہیں بلکہ اپنائیت ملے۔
 
جہاں اسے یہ ثابت نہ کرنا پڑے کہ وہ اس گھر کے لیے کتنی قربانیاں دے چکی ہے۔اور جہاں واپسی کے لیے اسے کسی سے اجازت نہ مانگنی پڑے۔ایک بیٹی کو اپنے والدین کے گھر کے بارے میں یہ یقین ہونا چاہیے کہ"یہ دروازہ میرے لیے کبھی اجنبی نہیں ہوگا۔"اور ازدواجی زندگی میں اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ:"یہ گھر صرف شوہر کا نہیں، ہماری مشترکہ زندگی کا گھر ہے۔"دو دہلیزوں کے درمیان ایک نئی سوچ۔ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ بیٹیوں اور بیٹوں کے درمیان ایک نئی کشمکش پیدا کی جائے۔
 
ضرورت انصاف کی ہے۔بیٹے کو گھر ملنے پر اعتراض نہیں، مگر بیٹی کو بے گھر ہونے کا احساس کیوں؟بیٹے کو وراثت ملنے پر سوال نہیں، مگر بیٹی کو اپنا حق مانگنے میں شرمندگی کیوں؟بیٹے کی ملازمت کو مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، مگر بیٹی کی تعلیم کو صرف شادی کے لیے اضافی خوبی کیوں سمجھا جائے؟ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف اچھی دلہن بنانے کے لیے نہیں، بلکہ باشعور، بااختیار اور زندگی کے مسائل سے نمٹنے کے قابل انسان بنانے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔انہیں صرف رخصتی کے لیے نہیں، زندگی کے لیے تیار کرنا ہوگا۔آخر میںایک دن ہر بیٹی کسی نہ کسی چوکھٹ سے گزرتی ہے۔اس کے ہاتھ میں شاید قرآن ہو، آنکھوں میں آنسو ہوں، ماں کی دعائیں ہوں اور باپ کی لرزتی ہوئی آواز۔
وہ پیچھے مڑ کر اپنے بچپن کے گھر کو دیکھتی ہے۔اور آگے ایک نئے گھر کی طرف بڑھ جاتی ہے۔مگر ایک مہذب، منصف اور محبت کرنے والے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے دل میں یہ خوف کبھی پیدا نہ ہونے دے کہ"اگر یہ دروازہ بھی بند ہو گیا تو میں کہاں جاؤں گی؟"
 
کیونکہ بیٹی کو صرف ایک گھر سے دوسرے گھر بھیج دینا کافی نہیں۔اسے زندگی میں حق، عزت، تحفظ اور اختیار دینا ضروری ہے۔
شاید تب ہماری بیٹیاں یہ جملہ سننا چھوڑ دیں گی کہ:"بیٹی کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔"
اور ایک نئی نسل پورے اعتماد سے کہہ سکے گی:"بیٹی کے کئی رشتے ہو سکتے ہیں، کئی آنگن ہو سکتے ہیں، مگر وہ بے گھر نہیں ہوتی۔
اس کا حق بھی ہے، اس کی شناخت بھی ہے، اور اس کے لیے محبت کے دروازے بھی ہمیشہ کھلے رہنے چاہیے۔"کیونکہ بیٹی صرف کسی گھر سے رخصت ہونے والی شخصیت نہیںوہ خود ایک گھر ہے۔ماں بن کر نسلوں کو پناہ دیتی ہے،بیٹی بن کر آنگن میں محبت اگاتی ہے،
 
بہن بن کر رشتوں کو جوڑتی ہے،اور عورت بن کر زندگی کے بکھرے ہوئے موسموں میں بھی چراغ جلاتی ہے۔اس لیے مسئلہ یہ نہیں کہ:"بیٹی کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔"
اصل سوال یہ ہے کہ ہم   اپنی بیٹیوں کے لیے ایسا معاشرہ کب بنا سکیں گے ، جہاں انہیں زندگی بھر اپنا گھر ثابت نہ کرنا پڑے؟بیٹی کو یہ احساس ضرور ملنا چاہیے کہ شادی محبت کا رشتہ ہے مگر زندگی بسر کرنے کے لیے وسائل بھی ضروری ہین جس کے لیے حکمت ،ذمہ داری اور تحفظ بھی ضروری ہے تب شاید ہماری بیٹیاں صرف ایک گھر سے دوسرے گھر رخصت نہیں ہوں گی بلکہ زندگی کے سفر میں زیادہ اعتماد اور تحفظ کے ساتھ قدم رکھیں گی اور شاید کسی دن کسی چھوٹے سے دروازے  کی معمولی سی تختی پر یا کسی محفوظ مالی اثاثے کے کاغذ پر اس کا نام لکھا ہو ۔وہ نام صرف ملکیت کی علامت نہیں ہوگا وہ معاشرے کی ایک نئی سوچ کا اعلان ہوگا  اور ان کے لیے خوبصورت دعا یہ ہوگی :
جاؤ تم جہاں وہاں محبت  کے ساتھ قدر و منزلت ملے 
تمہارے  حقوق محفوظ ہوں 
تمہارا احترام قائم رہے
اور زندگی کبھی تمہیں آزمائے 
تو تمہارے پاس اپنے نام کا کوئی سہارا ضرور ہو 
ننگے پاؤں کا چھاؤ ں سے رشتہ ایسا ہوتا ہے 
 
ڈسکلیمر:اردو ویژن انتظامیہ کامضمون نگار یااس مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔