(بشکریہ بین الاقوامی میڈیا)
غزہ میں تین سال بعد فٹ بال کی واپسی ہوئی ہے ۔ جنگ کے دوران 565 فٹ بال سے وابستہ افراد سمیت فلسطینی کھیلوں کی برادری کے ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ بیشتر کھیلوں کی سہولیات تباہ ہوگئیں۔
فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن نے ’ایک ہزار شہداء کپ‘ کے عنوان سے ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا ہے ۔ جمعے(4 ستمبر2026) سے اس ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا،افتتاحی میچ بیک وقت مغربی کنارے، غزہ اور لبنان میں قائم فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں کھیلے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ٹورنا منٹ میں مغربی کنارے، غزہ اور بیرون ملک مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کے 244 کلب حصہ لے رہے ہیں ۔ فٹ بال ایسوسی ایشن نے اس ٹورنامنٹ کا نام ان فلسطینی کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد کی یاد میں رکھا ہے جو غزہ پٹی کے خلاف صہیونی حکومت کی جنگ کے دوران شہید ہوئے۔
طویل تعطل کے بعد کھیل سرگرمیوں کی واپسی
فلسطینی اسپورٹس میڈیا ایسوسی ایشن کے سکریٹری جنرل مصطفیٰ سیام نے کہا کہ یہ مقابلے تین سیزن سے زائد عرصے کے تعطل کے بعد فلسطین میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی واپسی کی علامت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ صرف فلسطینی کھلاڑیوں ہی کے خلاف نہیں بلکہ فلسطین کے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف بھی تھی اور اس دوران ایک ہزار سے زائد کھلاڑی، کوچ اور ریفری سمیت کھیلوں سے وابستہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
سیام نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ کا نام فلسطینی کھیلوں کی تحریک کے شہداء کی یاد میں رکھا گیا ہے اور اس کا آغاز اس بات کا پیغام ہے کہ کھیلوں کی زندگی کی بحالی، خواہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، ایک مثبت اورمفید اقدام ثابت ہوگی۔
بیشتر کھیلوں کے مراکز تباہ
فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل سامی ابو الحسین کے مطابق غزہ میں فٹ بال کی بحالی کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کھلاڑی بڑے میدانوں کے بجائے پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل چھوٹے میدان میں کھیلنے پرمجبور ہیں، کیونکہ جنوبی گورنریٹس میں کھیلوں کی تمام بڑی سہولیات تباہ ہوچکی ہیں۔
جنگ کے دوران غزہ کے 56 میں سے 50 سے زائداسپورٹس کلب اور 285 کھیلوں کی سہولیات تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث کھلاڑیوں کے پاس تربیت اور مقابلوں کے لیے انتہائی محدود مقامات باقی رہ گئے ہیں۔
’ہم جینا چاہتے ہیں‘
شباب رفح کلب کے کوچ راجی عاشور نے فٹبال کی واپسی کو صرف کھیل کی بحالی نہیں بلکہ غزہ کے عوام کے عزم کا اظہار قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تین سال کی جنگ کے بعد ہونے والا یہ میچ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ فلسطینی عوام زندگی سے محبت کرتے ہیں، کھیل اور زندگی کے دیگر شعبوں کے ذریعے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جینا چاہتے ہیں۔
ملبے میں بھی کھیل کا جذبہ زندہ
غزہ کے بیشتراسٹیڈیم اور کھیلوں کے میدان تباہ ہوچکے ہیں، جس کے باعث مقامی کلب بڑے میدانوں کے بجائے محدود پانچ کھلاڑیوں والے گراؤنڈز میں مقابلے کر رہے ہیں۔اگرچہ کھیل کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں انتہائی محدود ہوگیا ہے لیکن فٹبال نے جنگ، تباہی اور جانی نقصان کے باوجود غزہ میں دوبارہ قدم رکھ دیا ہے۔
یہ واپسی صرف ایک کھیل کا دوبارہ آغاز نہیں بلکہ جنگ سے متاثرہ لوگوں کی زندگی، امید اور معمول کی طرف لوٹنے کی خواہش کی علامت بھی بن گئی ہے۔





