(فوٹورائٹرز)
اسرائیل نے 7 اکتوبر کے موقع پر سکیورٹی اقدامات کے تحت مغربی کنارے اورغزہ میں مکمل بندش کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب مغربی کنارے میں حملوں اور گرفتاریوں کے ساتھ فلسطینیوں اور ان کی املاک پر یہودی آباد کاروں کے دھاووں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی حکام نے سات اکتوبر کے موقع پر سکیورٹی الرٹ کے پیش نظر 5-7 اکتوبر کو مغربی کنارے میں مکمل بندش کا اعلان کیا ہے، جبکہ غزہ پٹی کی جانب جانے والے راستے اور سرحدی گزرگاہیں بھی بند رہیں گی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی صورتحال کے جائزے اور فوجی قیادت کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کے دفتر کے مطابق بندش کے فیصلے میں مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ غزہ پٹی کی جانب جانے والی سرحدی گزرگاہیں بھی شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، ان پابندیوں کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کی نقل و حرکت مزید محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ مغربی کنارے میں پہلے ہی متعدد چیک پوسٹوں، سڑکوں کی بندش اور دیگر فوجی اقدامات کے باعث فلسطینی شہروں اور قصبوں کے درمیان آمدورفت متاثر ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے دھاووں اور گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ چیک پوسٹوں پر سختیوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ اسی دوران فلسطینیوں اور ان کی املاک پر یہودی آباد کاروں کے حملوں میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
غزہ کی جانب جانے والے راستوں کی بندش سے پٹی کے مکینوں کے لیے افراد اور سامان کی نقل و حرکت مزید محدود ہو جائے گی۔ غزہ پہلے ہی آمدورفت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی پر عائد سخت پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
فلسطینی علاقوں میں چیک پوسٹیں، راستوں کی بندش، گرفتاریاں اور دیگر سکیورٹی اقدامات شہریوں کی روزمرہ زندگی اور نقل و حرکت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ سات اکتوبر کے موقع پر پابندیوں کے اعلان سے فلسطینی علاقوں میں نقل و حرکت پر عائد پہلے سے موجود قدغنیں مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔






