نیپال میں سیاسی بحران(فوٹو رائٹرز)
نیپال میں سیاسی کشمکش ہے۔ بظاہرسوشل میڈیا ایپس پرعائدپابندی کے نتیجے میں جنریشن زیڈ کا غصہ پھوٹا۔حالانکہ حکومت نے ڈیمیج کنٹرول کی کوشش کرتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لے لیا مگریہ کوشش نئی نسل کی برہمی کم کرنے میں ناکام رہی۔ نتیجتاً نیپال کے وزیراعظم اولی کواستعفی دینا پڑا۔ پچھلے چار برسوں میں بھارت کے چار پڑوسی ممالک میں تختہ پلٹ ہوچکا ہے۔
ہمالیہ کے دامن میں بساپُرامن اورپُرسکون ملک نیپال میں بے چینی ،بے اطمینانی،احتجاج اورتشدد دور دورہ ہے۔۔ جنریشن زیڈ(Gen Z)یعنی نئی نسل سڑکوں پرہے ۔ جنریشن زیڈ کے پُرتشدداحتجاج کی وجہ سے نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی اور صدر رام چندر پوڈیل کو استعفی دینا پڑا۔ احتجاجیوں نے سابق وزیر اعظم دیوبا سمیت حکومتی وزراء اورلیڈروں کا تعاقب اورمحاصرہ کیا۔ گھروں میں گھس توڑپھوڑکی۔احتجاج بغاوت کا روپ اختیارکرچکا ہے۔احتجاجیوں نے راشٹرپتی بھون کوپھونک دیا ۔ انہوں نے وہاں رکھی قیمتی اشیاء لوٹ لی۔ پچھلے چاربرسوں میں بھارت کے ہمسایہ چار ممالک میں تختہ پلٹ ہوا ہے۔
افغانستان میں بغاوت
بھارت کے پڑوسی ملک افغانستان میں 15 اگست 2021 کوسیاسی اتھل پتھل مچی۔ طالبان نے وہاں اقتدارپر قبضہ کر لیا۔ یہ بغاوت سڑکوں پر طالبان کی طرف سے فائرنگ سے شروع ہوئی۔ طالبان نے صدر کی رہائش گاہ میں گھس کر قیمتی سامان کو لوٹ لیا۔ سرکاری رہائش گاہ میں افراتفری مچ گئی۔ افغانستان میں بغاوت کا آغاز امریکی افواج کے انخلاء سے ہواتھا۔
سری لنکامیں مظاہرین جب صدرکی رہائش گاہ میں دھمک پڑے
افغانستان کے بعد بھارت کے پڑوسی ملک سری لنکا میں بغاوت ہوئی۔ 9 جولائی 2022 کو سری لنکا میں لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ تمام مظاہرین راشٹرپتی بھون گھس گئے اورجم کرہنگامہ کیا ۔ مظاہروں کے درمیان صدر گوتابایا راجا پکسے کو اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا۔
بدعنوانی اورمہنگائی کے خلاف عوام سڑکوں پراترآئے
یہ کوئی فوجی بغاوت نہیں تھی بلکہ ایک زبردست عوامی بغاوت کا نتیجہ تھی جسے ’اراگ لایا‘ (جدوجہد) تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ معاشی بحران، بدعنوانی اور مہنگائی کے خلاف لاکھوں شہریوں کے احتجاج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا جس کے نتیجے میں انورا کمارا دسانائیکے کونئے صدر کے طور پر چنا گیا۔
بنگلہ دیش میں بغاوت
بنگلہ دیش میں پچھلے سال بغاوت ہوئی تھی۔ 5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش میں طلباءکی قیادت میں بڑے پیمانے پر ہوئےمظاہروں کے بیچ سیاسی بحران پیدا ہوا۔ مظاہرین پی ایم ہاؤس میں گھس گئے۔ عجلت میں اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ کو ڈھاکہ چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینی پڑی۔ مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس سے قیمتی سامان لوٹ لیا۔ وہاں بہت ہنگامہ ہوا۔
حسینہ کے استعفیٰ کے ساتھ ہی عبوری حکومت کی تشکیل
بنگلہ دیش کی تاریخ کا یہ اہم واقعہ تھا ۔ جہاں ایک جماعت عوامی لیگ کا وجود ختم ہو چکا ہے۔ حسینہ واجد کی حکومت جو 15 سال سے زائد عرصے سے برسراقتدار تھی، عوامی تحریک نے اکھاڑ پھینکی۔ وزیراعظم کے ملک سے باہر جاتے ہی آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے حسینہ واجد کے استعفیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عبوری حکومت بنے گی۔
سڑکوں پراترے عوام
اس طرح پچھلے چار برسوں میں بھارت کے چار پڑوسی ممالک میں آن کی آن میں حکومتیں بدل گئی ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی مخالفت دیکھنے کو ملی تو نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور چند دنوں کے احتجاج کے بعد حکومت کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔




