بہارکا انتخابی منظرنامہ،ذات پات کاجوڑ گھٹاؤاور مسلم ووٹروں کی حیثیت

Published On: 26 July, 2025 01:43 AM

Abdullah Aabid : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بہارکا انتخابی منظرنامہ،ذات پات کاجوڑ گھٹاؤاور مسلم ووٹروں کی حیثیت

بہارمیں انتخابات کی تیاریاں(فوٹو رائٹرز)

Bihar Assembly Elections and Muslim Voters:بہارمیں اسمبلی انتخابات کچھ ہی مہینوں میں ہوے والے ہیں۔یاسی جماعتیں اوراتحاد اپنے اپنے ہوم ورک میں جٹ گئی ہیں۔مسلم ووٹرکس پارٹی کے پالے میں ہیں۔ کیا اب بھی مسلم ووٹرکی حیثیت ریاست کی انتخابی سیاست میں ہے؟


Bihar Assembly Elections and Muslim Voters:بہارمیں اسمبلی انتخابات کچھ ہی مہینوں میں ہوے والے ہیں۔یاسی جماعتیں اوراتحاد اپنے اپنے ہوم ورک میں جٹ گئی ہیں۔مسلم ووٹرکس پارٹی کے پالے میں ہیں۔ کیا اب بھی مسلم ووٹرکی حیثیت ریاست کی انتخابی سیاست میں ہے؟

Bihar Elections and Muslim Voters:بہارمیں الیکشن کیگہماگہمی ہے۔ سیاست کی بساط پرمدوں کے پانسے پھینکے جارہے ہیں۔ اعلانات،دعوؤں اوروعدوں کا دور دورہ ہے۔ سیاسیپارٹیاں ووٹروں کوراغب کرنے میں جٹی ہیں۔ پندرہ سال سے اقتدارپرقابض نتیش کمار کی حصولیابیوں اورناکامیوں کا ذکر فی الحال ووٹرلسٹ کی نظرثانی پروبال سے پس منظرمیں ہے۔ قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بھی سرخیوں میں ہے۔ پٹنہ سے دہلی تک ایس آئی آر پراپوزیشن پارٹیوں نے محاذ کھول رکھا ہے۔ اس بیچ وقف کے معاملے پربھی بہارمیں سیاسی بیان بازیاں ہوئیں ۔غیریقینی ، تشویش اورخوف کے ماحول کے بیچ ایک سوال جو گردش میں ہے وہ یہ کہ اس بار مسلم ووٹر کس کے پاس جائے گا؟ 2 کروڑ 10 لاکھ کی آبادی کے ساتھ، بہار کی پوری آبادی میں 17.7 فیصد حصہ داری کے ساتھ، مسلم ووٹر سیاسی ایکوئیشن کوبدلنے بدلنے کی طاقت رکھتے ہے۔ ہر پارٹی اورہراتحاد اس  ’کنگ میکر‘ کو شیشے میں اتارنے میں مصروف ہے۔ دائیں ،بائیں اورمرکز،سکیولر اورفرقہ پرست پارٹی کی علاحدہ شناخت اور پھر ان کے اتحاد اور ذات پات پرمبنی بہار کی سیاست  میں مسلم ووٹرکی ضرورت سبھی جاعت یا اتحاد کو تو ہے لیکن کیا اس سیاسی صورتحال میں مسلم ووٹر کی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا ریاست کی سیاست میں ن کا اب کوئی اثر بھی ہے؟

 بہار میں مسلمانوں کی آبادی 

2023 کی ذات پات کی مردم شماری کے مطابق، مسلمان ریاست کی کل آبادی کا 17.7فیصد ہیں، جو ہندوؤں (81.99فیصد) کے بعد دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ بہار میں مسلمانوں کی آبادی بنیادی طور پر سیمانچل میں مرکوز ہے، بالخصوص کشن گنج، ارریہ، پورنیا، کٹیہار ، دربھنگہ، مدھوبنی، سمستی پور جیسے اضلاع میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آباد ی ہے۔

کشن گنج میں مسلمانوں کی آبادی 68 فیصد ہے جو بہار میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد 38 فیصد کے ساتھ پورنیا، 43 فیصد کے ساتھ ارریا اور 44 فیصد کے ساتھ کٹیہار کا نمبر آتا ہے۔ ان اضلاع کی 24 اسمبلی سیٹیں اقتدار کی کنجی سمجھی جاتی ہیں۔

مسلمانوں میں ذات پات کی تقسیم بھی سیاست کو متاثر کرتی ہے۔ مسلمانوں کو اشرف اور اجلاف اور ارجل میں تقسیم کیاجاتا ہے۔ اعلیٰ طبقے یعنی سید، شیخ، پٹھان تقریبًا 3-5فیصد ہیں۔جو تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر بہتر ہیں۔پسماندہ مسلمانوں کی آبادی تقریبًا 80-85فیصد ہے۔یہ ذات پات کے حساب سے ووٹنگ کے انداز کو مزید الجھا دیتا ہے۔

سیاسی اثر اورسیٹیں

سیمانچل کی 24 سیٹوں پر مسلم ووٹر فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔یہاں اوسطاً 36-37فیصد ووٹر مسلم ہیں۔ کشن گنج میں ٹھاکر گنج، کوچادھامن اور بہادر گنج جیسی سیٹوں پر مسلم ووٹر جیت اور ہار کا فیصلہ کرتے ہیں۔ امور، پورنیا میں بیسی اور ارریہ میں جوکیہاٹ جیسی سیٹوں پرمسلم ووٹر کنگ میکر تصور کیے جاتے ہیں۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں، آر جے ڈی۔کانگریس اتحاد نے 24 مسلم اکثریتی سیٹوں پر زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس میں آر جے ڈی کو 80 اور کانگریس کو 27 سیٹیں ملی تھیں۔  اے آئی ایم آئی ایم نے بہار کی سیاست میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی ۔ پارٹی نے 5 سیٹوں پر جیت درج کی تھی اور تمام سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دی تھا، لیکن بعد میں 4 ایم ایل اے ،آر جے ڈی میں شامل ہو گئے تھے۔

مسلم لیڈرشپ

آزادی کے بعد سے بہار کی سیاست میں مسلم لیڈروں کا اثر رہا ہے۔ سید محمود، محمد تسلیم الدین اور ابراہیم جیسے لیڈر پارلیمنٹ پہنچے، جب کہ نوابزادہ سید، تاج الدین اور شکور احمد جیسے نام اسمبلی میں چمکے۔ فی الحال، تیجسوی یادو کی قیادت میں آر جے ڈی کے عبدالباری صدیقی، اختر الاسلام شاہین اور محمد نیاز احمد جیسے لیڈر مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ AIMIM کے اختر الایمان سیمانچل میں ایک ابھرتا ہوا چہرہ ہیں۔ پسماندہ تحریک کے لیڈر علی انور آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کے صدر ہیں اور سماجی و اقتصادی مسائل کو اٹھاتے رہے ہیں۔
حکومت سازی میں مسلم ووٹر  کا کردار

بہارمیں مسلم ووٹرحکومت سازی ک اکوئیش پراثراندازہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔ 2020 کے انتخابات میں، آر جے ڈی۔کانگریس اتحاد کو 42 فیصد ووٹ ملے جس میں مسلم ووٹروں کا تناسب زیادہ ہے ۔ آر جے ڈی کی ’ایم وائی‘ (مسلم۔ یادو) اکوئیشن  اس کی طاقت ہے جس میں مسلم ووٹروں کا 18 فیصد تک اثر ہے۔ تاہم، پسماندہ مسلمانوں کا ایک طبقہ جے ڈی یو اور بی جے پی کی طرف بھی جاتا ہے، خاص طور پر نتیش کمار کی ای بی سی اور مہادلت پالیسیوں کی وجہ سے۔ وقف بل جیسے مسائل نے پسماندہ رائے دہندوں کو 2025 میں بی جے پی۔این ڈی اے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کوتقویت پہنچائی ہے ۔

 کس  پالے میں مسلم ووٹ؟

تاریخی طور پر، مسلم ووٹروں کا جھکاؤ آر جے ڈی اور کانگریس کی طرف ہے، کیونکہ یہ پارٹیاں سیکولر شبیہ اور بی جے پی کی مخالفت کی بنیاد پر ووٹ مانگتی ہیں۔ لالو پرساد یادو کا ‘MY’ ایکوئیشن اس کی ایک مثال ہے۔ تاہم، نتیش کمار کی جے ڈی یو نے اپنی پالیسیوں (جیسے شراب بندی اور ای بی سی ریزرویشن) کے ساتھ پسماندہ اور کلہیا جیسی برادریوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ بی جے پی بھی وقف بل اور فلاحی اسکیموں کے ذریعے اس ووٹ بینک میں سیندھ مارنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کا ہندوتوا ایجنڈا مسلم ووٹروں میں عدم اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسد الدین اویسی اب بہار کی سیاست میں مسلم ووٹوں کے لیے ایک بڑا فیکٹر ثابت ہو رہے ہیں۔ سیمانچل میں ان کی پارٹی کی 5 سیٹوں پر جیت اور 14 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے۔

مسلم فیکٹر کی اہمیت

بہار کی سیاست میں مسلم ووٹر کے بغیر اقتدارکا حصول آسان نہیں ۔ سیمانچل کی 24 سیٹوں پر ان کا غلبہ اور ‘MY’ اکوئیشن کی مضبوطی انہیں بادشاہ گربناتی ہے۔ لیکن، پسماندہ اور اشرف کے درمیان سماجی و اقتصادی خلیج اور تعلیم کی کمی نے ان کی سیاسی نمائندگی کو محدود کر دیا ہے۔ 2025 کا الیکشن اس بات کا امتحان ہوگا کہ آیا مسلم ووٹر آر جے ڈی۔کانگریس کے ساتھ اپنی وفاداری برقرار رکھیں گے یا نتیش اور بی جے پی کا پسماندہ کارڈ کامیاب ہوگا۔ تیجسوی یادو کا جوش اور راہل کا سیکولر ایجنڈا اس بار مسلم ووٹروں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن بی جے پی کی ترقی اور ہندوتوا کی سیاست اس لڑائی کودلچسپ بنا رہی ہے۔