غزہ میں نسل کشی کے دعوؤں کوملی تقویت، اسرائیلی فوج کی خفیہ رپورٹ لیک، عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت

Published On: 22 August, 2025 06:24 PM

Abdullah Aabid : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
غزہ میں نسل کشی کے دعوؤں کوملی تقویت، اسرائیلی فوج کی خفیہ رپورٹ لیک، عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا مکروہ چہرہ بے نقاب(تصویراے پی)

Leaked Israeli military intelligence confirms highiest civilian tolls in Gaza:غزہ میں شہریوں کی ہلاکت پراسرائیلی ملٹری کی خفیہ رپورٹ لیک ہوگئی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق،83فیصدہلاکتیں عام فلسطینیوں کی ہوئی ہیں۔یہ اعدادوشمارمطابق مئی 2025 تک ہوئی ہلاکتوں پرمبنی ہے۔مئی 2025 تک 53 ہزار عام فلسطینی شہید ہوئے۔

 خون ناحق کہیں چھپا ہے کبھی اورغزہ تو خون ناحق کادریا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کی لہروں میں ہزاروں فلسطینی شہیدہوچکے ہیں۔لاکھوں زخمی اورہزاروں معذورہوچکے ہیں۔ مصراورقطر کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع کرنے کابھی اشارہ دیا ہے بشرطیکہ کہ شرائط اسرائیل کو قابل قبول ہوں۔

اس بیچ،غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں سے متعلق اسرائیلی ملٹری کی خفیہ رپورٹ لیک ہوگئی ہے۔ برطانوی روزنامے  گارڈین  نے یہ انکشاف کیا ہے۔ اخبارنے بتایا کہ لیک رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغازسے رواں سال مئی تک غزہ میں ہوئی کُل ہلاکتوں میں83فیصد تعدادعا م شہریوں کی تھی۔

روزنامہ گارڈین کےمطابق مئی 2025تک 53 ہزار عام فلسطینی کی غزہ میں ہلاکت ہوئی تھی ۔ اسرائیلی حملوں میں صرف 8ہزار9سو افراد کوحماس یا فلسطینی اسلامک جہاد کا جنگجو قرار دیا گیا جب کہ باقی عام شہری تھے۔ لیک ڈیٹا کے مطابق 83 فیصد ہلاکتیں عام فلسطینی شہریوں کی تھیں۔


رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ اسرائیل نے زیادہ تر افراد کو بغیر تصدیق کے جنگجو قرار دیا، عالمی اداروں نے بھی شہری اموات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔  ڈیٹا لیک ہونے  کے بعد اسرائیلی فوج کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق مہلوکین میں بچے،خواتین، بوڑھے اور بے گناہ افراد شامل ہیں، یہ تناسب جدید جنگوں میں سب سے زیادہ ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جدید جنگ میں یہ تناسب غیرمعمولی  ے۔ محققین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ صرف روانڈا کی نسل کشی، 1995 کا سریبرینیکا قتل عام، اور روس کے ماریوپول کے 2022 کے محاصرے میں شہریوں کی اموات کی شرح زیادہ ریکارڈ کی گئی۔


انسانی حقوق کے گروپوں اور نسل کشی کے علمبرداروں کا استدلال ہے کہ نتائج ان دعوؤں کی مزید تائید کرتے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، جس میں جان بوجھ کر بھوک کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔


اس سال مارچ کے مہینے تک غزہ کی ہلاکتوں کی تعداد 50ہزارتک پہنچ گئی تھی۔ وزارت صحت کے مطابق، اس کے بعد سے یہ بڑھ کر 62 سے تجاوز کر گئی ہے۔ زخمیوں کی کل تعداد 1لاکھ57ہزارسےزیادہ ہوگئی ہے۔

غزہ میں معذورافرادکی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ 

غزہ میں اسرائیلی بمباری  کے نتیجے میں فلسطینیوں کی بڑی تعداد معذور ہوچکی ہے ۔دنیا میں سب سے زیادہ معذور افراد اب غزہ میں ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ معذور افراد اب غزہ میں موجود ہیں، حالیہ جنگ کے دوران تقریباً5ہزارافراد کے اعضا کاٹنے پڑے۔ان میں بیشتر بچے ہیں۔اس جنگ سے قبل، غزہ میں 2 ہزار سے زائد افراد معذوری کی زندگی گزار رہے تھے۔غزہ میں اسپتال کھنڈرمیں تبدیل ہوچکے ہیں۔طبی شعبہ مفلوج ہوگیا ہے۔ماہرڈاکٹروں کی کمی ہے۔ بنیادی سہولتوں تک رسائی بھی نہ کے برابر ہے، بچوں میں جسمانی معذوری کے ساتھ نفسیاتی مسائل میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک  کھوں بے گھر ہوچکے ہیں، مسلسل بمباری اور محاصرے کے باعث خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت ہے اور پوری آبادی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔