لداخ میں پُرتشدداحتجاج، پتھراؤ،آگ زنی اورہلاکتیں، سونم وانگچک نے کی بھوک ہڑتال ختم

Published On: 24 September, 2025 08:55 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
لداخ میں پُرتشدداحتجاج، پتھراؤ،آگ زنی اورہلاکتیں، سونم وانگچک نے کی بھوک ہڑتال ختم

لداخ میں پُرتشدداحتجاج(تصویر۔این ڈی ٹی وی)

لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کے مطالبے پر احتجاج پرتشدد ہو گیا۔ احتجاجیوں اور پولیس کے بیچ جھڑپیں ہوئی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ مشتعل ہجوم نے سی آر پی ایف کی ایک گاڑی اور پولیس کی گاڑی کوپھونک دیا اور بی جے پی کے دفتر پر بھی حملہ کیا۔بڑھتے تشددکو دیکھتے ہوئے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے اپنا پندرہ روزہ انشن ختم کردیا ہے۔



 لداخ کے امن وامان کوتشدد نے پارہ پارہ کردیا۔ احتجاجیوں اور پولیس کے بیچ جھڑپیں ہوئیں۔پتھراؤ،آگ زنی کے واقعات رونما ہوئے۔احتجاجیوں نے بی جے پی دفتراورسکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں کونشانہ بنایاجس کےنتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کےگولے داغےاور فائرنگ بھی کی۔ تعزیرات ہند (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت ایک امتناعی حکم نافذ کیا گیا ہے، جس میں پانچ یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔  پی ٹی آئی کے مطابق پرتشدد واقعات میں چار افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

احتجاج پُرتشددہوتا دیکھ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے اپنی 15 روزہ بھوک ہڑتال ختم کردی۔ لداخ کوریاست کا درجہ دینے اورچھٹے شیڈول میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے سونم وانگچک  احتجاج کررہے تھے۔انھوں نے تشددنہ کرنے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی۔ سونم وانگچک نے تشدد پرافسوس کا اظہار کیا۔انھوں نے اس کا ذمہ دار نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کو قرار دیا۔سونم وانگچک نے کہا کہ احتجاجیوں میں سے ایک 72 سالہ مرد اور ایک 62 سالہ خاتون کو منگل کواسپتال میں داخل کرایا گیا۔ یہ ممکنہ طور پر پرتشدد احتجاج کی فوری وجہ تھی۔

وانگچک کا مزیدکہنا ہے کہ بی جے پی نے لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن پانچ سال بعد بھی یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالبات پانچ سال سے زیر التوا ہیں۔ملک کا دستور دو سال میں مرتب ہوگیاتھا لیکن پانچ برسوں کے بعد بھی ہمارے مطالبات پربات  پوری نہیں ہوئی ہے۔ لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسا کچھ ہو جس سے ملک  کی شبیہ خراب ہو۔


لیہہ بند کی کال کیوں دی گئی؟
یہ تشدد لیہہ اپیکس باڈی کے یوتھ ونگ کی طرف سے بلائے گئے بند کے دوران  ہوا۔ 10 ستمبر سے 35 دن کی بھوک ہڑتال کرنے والے 15 میں سے دو افراد کی صحت منگل کی شام بگڑنے کے بعد، یکجہتی کے اظہار کے لیے بند کی کال دی گئی تھی۔دونوں میں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ 

بھوک ہڑتال کرنے والوں کے مطالبات 
احتجاجی لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول میں توسیع کا مطالبہ کر رہے تھے۔ آئین کا چھٹا شیڈول گورننس، صدر اور گورنر کے اختیارات، بلدیاتی اداروں کی اقسام، ایک متبادل عدالتی نظام، اور خود مختار کونسلوں کے ذریعے استعمال کیے جانے والے مالی اختیارات کے حوالے سے خصوصی دفعات کرتا ہے۔ چھٹا شیڈول چار شمال مشرقی ریاستوں تریپورہ، میگھالیہ، میزورم اور آسام کی قبائلی آبادی کے لیے ہے۔

وزارت داخلہ اور لداخ کے نمائندوں کے درمیان 6 اکتوبر کو بات چیت ہونے والی ہے۔ لداخ کے نمائندوں میں LAB اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA) کے ارکان شامل ہیں۔ دونوں تنظیمیں گزشتہ چار برسوں سے اپنے مطالبات کے لیے مشترکہ طور پر احتجاج کر رہی ہیں۔مرکزی حکومت کے ساتھ اب تک مذاکرات کے کئی دورے ہوچکے ہیں ۔

 تشددکیسے پھوٹا؟
 حکام نے بتایا کہ ہڑتال کی کال پر لیہہ شہر میں دکانیں اورتجارتی مراکزبندرہے ۔ این ڈی ایس میموریل گراؤنڈ میںبڑی تعداد میںلوگ  جمع ہوئے ۔اس کے بعد شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا، چھٹے شیڈول اورمکمل ریاست کی حمایت میں نعرے لگائے۔مگرحالات اس وقت  بے قابو ہوگئے جب کچھ لوگوں نے بی جے پی اور ہل کونسل ہیڈکوارٹر پر پتھراؤ کیا۔ دفتر کے احاطے میں موجود فرنیچر اور ایک عمارت کو آگ لگ گئی۔ ہجوم نے کئی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور گولیوں کا بھی سہارا لیا۔ کئی گھنٹوں کی جھڑپوں کے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا۔