ایران کے ایٹمی پرگرام پرتنازع طشت ازبام ، ایک عشرے بعد اقوام متحدہ کی تہران پر پابندیاں دوبارہ عائد

Published On: 28 September, 2025 07:36 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
ایران کے ایٹمی پرگرام پرتنازع طشت ازبام ،  ایک عشرے بعد اقوام متحدہ کی تہران  پر پابندیاں دوبارہ عائد

ایران پراقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ(فوٹو رائٹرز)

تقریباﹰ ایک عشرے بعد ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق تنازعے میں اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ العمل ہو گئی ہیں۔ دراصل ایران کے ساتھ معاہدے میں شریک یورپ کے تین ممالک فرانس،جرمنی اور برطانیہ کے بیچ اتفاق رائے تک پہنچنے میں ناکامی کے نتیجے میں پابندیوں کا نفاذ28 ستمبرسے خود بخود ہوگیا۔ایران نے اسےغیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔

 
ایران کو ایک بارپھرعالمی ممالک کی پابندیوں کا سامنا ہے ۔ 2015 کے جوہری معاہدے میں شامل رہے برطانیہ،فرانس اورجرمنی نے الزام لگایاہے کہ ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے اس پر دوبارہ پابندی عائد کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تینوں ممالک نے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے۔  اعلامیے میں ایران سے کسی قسم کی اشتعال انگیز کاروائی سے بازرہنے کی بات بھی زوردے کر کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ  سفارت کاری کے لیے درکھلا رہنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔پابندی کے دوبارہ نفاذ کے باوجود  سفارتی کوششیں اور مذاکرات جاری  رکھنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف ان پابندیوں کے دوبار ہ روبہ عمل ہونے سے کچھ دیرقبل ، اس سلسلے میں مقررہ  ڈیڈ لائن میں توسیع کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ اس سلسلے میں کونسل میں ایک قرارداد ایران کے حلیف ممالک چین اور روس کی طرف سے پیش کیا گیا تھا لیکن 15 رکنی سلامتی کونسل کے نو ارکان نے اس قرارداد کی مخالفت کی اور تہران کو اس کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے مزید کوئی مہلت دینے سے انکار کر دیا۔

 واضح رہے کہ،2015 میں ایران  اور چھ ممالک کے درمیان  جوہری پروگرام  پرمعاہدہ طئے پایا تھا جس کے بعد،ایران پر عائد پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں۔ اس معاہدے کومشترکہ جامع عملی منصوبہ (JCPOA) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں امریکہ،چین ،فرانس،جرمنی،روس اور برطانیہ شامل تھے ۔سلامتی کونسل نے جولائی 2015 میں اس معاہدے کی توثیق کی جو اب اس سال 18 اکتوبر کو ختم ہو رہا ہے۔ معاہدے کی شقوں کے مطابق کسی بھی فریق کو حق حاصل ہے کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر سکے۔جسے ’سنیپ بیک‘ کہا جاتا ہے۔ اگر کسی فریق کو لگے کہ ایران بڑی خلاف ورزی کر رہا ہے تو سلامتی کونسل اس عمل کے تحت دوبارہ پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ، ایران پہلے ہی افراط زر کی اونچی شرح کا سامنا  کررہا ہے ۔ اس درمیان ، نئی اقتصادی اور عسکری پابندیوں کے نفاذ کے باعث مزید اقتصادی مشکلات اور مالیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان پابندیوں کے تحت ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی ممنوع ہوگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی بینکوں اور مالیاتی شعبے کو بھی دوبارہ پابندیوں کا سامنا ہے اور ایران کو بہت سی تجارتی مصنوعات کی برآمد یا وہاں سے کسی دوسرے ملک میں درآمد پر بھی اب پابندی ہے۔
 

ایران نے پابندی عائد کیے جانے پربرہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو غیر منصفانہ اور غیر قانونی قراردیا ہے۔ ادھر ،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف  کا کہنا ہے کہ  یہ غیر قانونی ہے اور اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے مزید کہا کہ،روس نےاقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو ایک مکتوب روانہ کیا اور  خبردار کیا ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی واپسی کو تسلیم کرنا ان کی  بڑی غلطی ہوگی۔