روسی بیلسٹک میزائل حملوں سے کیف لرز اٹھا، 17 افراد ہلاک

Published On: 05 August, 2026 03:51 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
روسی بیلسٹک میزائل حملوں سے کیف لرز اٹھا، 17 افراد ہلاک

(فوٹورائٹرز)

روس نے کیف پر درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیے، جس سے کم از کم 17 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حملوں میں بڑے لاجسٹک مراکز، گودام اور فیکٹریاں تباہ ہو گئیں جبکہ صدر زیلنسکی نے مغربی اتحادیوں سے فوری پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گرد و نواح پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوگیے ۔ بیتی رات ہونے والے متعدد دھماکوں سے کیف اور شہر کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں روس نے یوکرین پر فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور کیف تقریباً ہر تین سے چار روز بعد میزائل حملوں کی زد میں آرہا ہے۔ یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے مجموعی طور پر 24 بیلسٹک میزائل، چار  کروز میزائل اور 115 ڈرون داغے۔ فضائی دفاع نے تقریباً 90 فیصد ڈرون تباہ کر دیے گئے، تاہم ایک بھی بیلسٹک میزائل کو فضا میں روکنے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق یوکرین کو کئی ماہ سے امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی کا سامنا ہے جبکہ یہی نظام روسی بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

زیلنسکی کی اتحادیوں سے مدد کی اپیل
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ اگر جدید بیلسٹک میزائل شکن نظام دستیاب ہوتے تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ مغربی اتحادیوں کی جانب سے دفاعی نظام کی فراہمی میں تاخیر یا ہچکچاہٹ براہ راست انسانی جانوں کے ضیاع اور وسیع تباہی کا سبب بن رہی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق حملوں میں گودام، ریلوے اسٹیشن، تعمیراتی سامان کے مراکز، ایک بریوری اور متعدد لاجسٹک تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

روس کا موقف
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ کیف اور اس کے اطراف سات لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مبینہ طور پر دوہرے استعمال کا سامان اور ڈرون کے پرزے ذخیرہ کیے جا رہے تھے۔روس اور یوکرین دونوں ایک دوسرے پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد کرتے رہے ہیں۔

بڑے کاروباری اداروں کو بھاری نقصان
یوکرین کی سب سے بڑی ہوم امپروومنٹ کمپنی ایپیسینٹر (Epicentr) نے بتایا کہ اس کے دو اہم لاجسٹک مراکز اور ایک فیکٹری چند منٹوں میں مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ یوکرین کی صنعت، لاجسٹکس، روزگار اور جنگ کے بعد بحالی کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش ہے۔
دوسری جانب معروف آن لائن ریٹیل کمپنی روزیٹکا (Rozetka) کی شریک بانی ایرینا چیچوٹکینا نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی بھر کی محنت کو چند لمحوں میں آگ کی لپیٹ میں جاتے دیکھا، تاہم کمپنی اپنی خدمات جاری رکھے گی۔

یوکرینی حکومت کا ہنگامی اجلاس
وزیراعظم سرہی کوریٹسکی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت لاجسٹکس اور تجارتی شعبے کی بحالی کے لیے کاروباری اداروں کے ساتھ ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی تاکہ سپلائی چین کو برقرار رکھا جا سکے۔

دوسری جانب یوکرین نے ایک بار پھر امریکہ سے جدید PAC-3 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فراہم کرنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ یہی میزائل روس کے بیلسٹک حملوں کا مؤثر دفاع کر سکتے ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ امریکہ میں یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی مقامی تیاری کی اجازت دینے سے متعلق مذاکرات بھی جاری ہیں، اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔