(فوٹورائٹرز)
امریکہ اور ایران کے بیچ 17 جون کو طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (MoU) کی مدت پیر کو ختم ہوگئی، تاہم معاہدے میں توسیع یا واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات اب بھی غیر واضح ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (MoU) کی مدت آج(پیر) ختم ہوگئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے معاہدے یا مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے فی الحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت کے بعد اس مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد تین ماہ سے زائد جاری رہنے والی جنگ کا سفارتی حل تلاش کرنا تھا، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور خلیج میں تجارتی سرگرمیاں، بالخصوص تیل اور گیس کی برآمدات، شدید متاثر ہوئیں۔
معاہدے میں کیا طے پایا تھا؟
مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ اور ایران نے فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ایک حتمی معاہدہ طے کیا جانا تھا، جس کے ذریعے تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کی توثیق کی جاتی۔
معاہدے میں کہا گیا تھا کہ حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت حاصل ہوگی اور اسے زیادہ سے زیادہ 60 دن میں مکمل کیا جائے گا، تاہم دونوں فریق باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع کرسکتے تھے۔
امریکہ نے 30 دن کے اندر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، حتمی معاہدے کے بعد ایران کے قریب موجود اپنی فوجی قوت واپس بلانے اور کم از کم 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو اور ترقیاتی پیکیج پر کام شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
واشنگٹن نے ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے، ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے استثنیٰ دینے اور تہران کو منجمد اثاثوں تک رسائی دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی۔
دوسری جانب ایران سے توقع کی گئی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرے گا اور 60 دن تک بحری جہازوں کو بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت دے گا۔ تہران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یورینیم افزودگی سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی۔
جنگ بندی الزام تراشی تبدیل
معاہدے پردستخط کے کچھ ہی عرصے بعد اس کی تشریح اور عمل درآمد پر اختلافات سامنے آنے لگے۔ امریکہ اور ایران کی جانب سے جاری کردہ معاہدے کی تفصیلات میں معمولی فرق تھا، جبکہ دونوں ممالک اس بات پر بھی متفق نہیں تھے کہ مفاہمتی یادداشت محض جنگ بندی ہے یا ایک مستقل سیاسی تصفیے کی بنیاد۔
27 جون کو صدر ٹرمپ نے خطے میں ایرانی حملوں کو معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی قرار دیا۔ ایران نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حملوں نے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی کی ہے۔
7 جولائی کو ٹرمپ نے معاہدے کو ختم قرار دے دیا۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف حملے جاری رکھے، جن میں تہران کے مطابق شہری تنصیبات بھی نشانہ بنیں اور کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنے تمام وعدوں کی خلاف ورزی اور معطلی کی، جس کے بعد تہران نے بھی اپنے وعدوں پر عمل درآمد روک دیا۔
معاہدے کی مالی شقیں بھی تنازع کا شکار رہیں۔ امریکہ نے ایران پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم نہیں کیں جبکہ ٹرمپ نے تہران کو تعمیر نو کے لیے رقم دینے کے امکان کو مسترد کردیا۔
آبنائے ہرمز اہم تنازع
مفاہمتی یادداشت کے بعد سے آبنائے ہرمز دونوں ملکوں کے درمیان سب سے اہم تنازع بن کر ابھری ہے۔ اس اہم بحری راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول پر نہیں آسکی اور امریکہ اور ایران دونوں اس گزرگاہ پر اپنے اپنے کنٹرول کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے سے پہلے ایران کو پابندیوں سے ریلیف اور منجمد اثاثوں تک رسائی ملنا ضروری ہے۔
رواں ہفتے امریکی محکمہ دفاع نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں پاناما کے پرچم والے ایک مال بردار جہاز پر کارروائی کی، کیونکہ امریکی مؤقف کے مطابق جہاز نے ایران کے خلاف عائد امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے راستوں پر کام کررہا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس انتظام کا انحصار سیاسی حل تک پہنچنے پر ہوگا۔
دوسری جانب قطر اور پاکستان ایران کے ساتھ رابطوں اور ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم تہران نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا یا نہیں۔
عراقچی نے ہفتے کو ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
ایران کی تیاری
ایران کی قومی سلامتی کی قیادت میں حالیہ تبدیلیاں بھی مستقبل کے مذاکرات پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری کا عہدہ سنبھالا۔ یہ ادارہ ایران کا اعلیٰ ترین قومی سلامتی کا فورم ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رضائی کی تقرری کا مقصد فوجی اور سول اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی بہتر بنانا ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ کی آبنائے ہرمز سے متعلق سخت دھمکی
ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنا لہجہ مزید سخت کردیا ہے۔
جمعہ کو نیویارک میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد امریکہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین قرار دینے کا اعلان کرے گا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایسے اقدامات کرے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔
مفاہمتی یادداشت اور تہران
دوسری جانب ایرانی قیادت جون میں طے پانے والے معاہدے کو اپنے لیے ایک کامیابی قرار دے رہی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف نے ہفتے کو تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران نے جو رعایتیں حاصل کیں وہ باعث فخر اور فتح ہیں۔
قالیباف نے کہا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ ایران اس جنگ میں فوجی اور سیاسی دونوں محاذوں پر فاتح بن کر ابھرا ہے۔
یوں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے کے بعد خطے میں سفارتی راستہ ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں اور دونوں ملکوں کے باہمی اعتماد کی بحالی مستقبل کے کسی بھی مذاکرات میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کرسکتے ہیں۔





