(فوٹورائٹرز)
نائن الیون حملوں کو 25 سال مکمل، 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں نے عالمی سیاست، جنگ، سلامتی اور مسلم دنیا پر کیا اثرات مرتب کیے؟
11 ستمبر2001 کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو 25 سال مکمل ہو گئے ہیں لیکن اس کے زخم اور اس کے سیاسی، سماجی اور عالمی اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ نائن الیون صرف امریکہ کے لیے ایک قومی سانحہ نہیں تھا بلکہ اس نے عالمی سیاست، سلامتی، جنگ، سفارت کاری اور معاشرتی رویوں کا رخ بھی بڑی حد تک بدل دیا۔
دہشت گردوں نے چار مسافر طیاروں کو ہائی جیک کیا اور اس کا استعمال ہتھیار کے طور پر کیا ۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے، تیسرا واشنگٹن کے قریب پینٹاگون سے جا ٹکرایا جبکہ چوتھا طیارہ مسافروں کی مزاحمت کے بعد پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا۔ ان حملوں میں تقریباً تین 2,977 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ہزاروں دیگر زخمی ہوئے۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہوئی، جہاں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور اس تنظیم کے خلاف کارروائی کو بنیادی مقصد قرار دیا گیا۔ اس کے بعد 2003 میں عراق پر امریکی حملے نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے کو مزید تبدیل کردیا۔
ان جنگوں کے اثرات آج بھی ان ممالک پردیکھے جاسکتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم نے نہ صرف افغانستان اور عراق بلکہ دیگر خطوں میں بھی فوجی کارروائیوں، انسداد دہشت گردی آپریشنز اور سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا۔ بعد کے برسوں میں داعش سمیت مختلف شدت پسند تنظیموں کے ابھرنے نے اس بحران کو مزید پیچیدہ کردیا۔
نائن الیون نے امریکہ اور دنیا بھر میں فضائی سفر اور داخلی سلامتی کے نظام کو بھی بدل دیا۔ ہوائی اڈوں پر سخت تلاشی، مسافروں کی جانچ، سرحدی نگرانی اور انٹیلی جنس تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا۔ امریکہ میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے نئے ڈھانچے قائم ہوئے اور نگرانی کے اختیارات میں توسیع ہوئی۔ تاہم ان اقدامات کے ساتھ شہری آزادیوں، رازداری اور مذہبی و نسلی امتیاز کے حوالے سے بحث بھی شدت اختیار کر گئی۔
نائن الیون حملوں کے امریکہ اور بعض دیگر ممالک میں اسلاموفوبیا، نسلی پروفائلنگ اور مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافہ ہوا، جس کے اثرات مختلف شکلوں میں ہنوز سامنے آتے ہیں ۔
25 سال بعد نائن الیون کی یاد ایک نئی نسل کے لیے تاریخ کا حصہ بن چکی ہے لیکن اس حملے کے بعد سیاسی فیصلوں کے اثرات آج بھی عالمی سیاست میں موجود ہیں۔ یہ سانحہ یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ امن، قانون، انسانی حقوق، ذمہ دار سفارت کاری اور معاشرتی ہم آہنگی کے ذریعے بھی ضروری ہے۔ نائن الیون کے 25 سال بعد دنیا کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ خوف اور جنگ کے بجائے پائیدار امن کا راستہ کیسے اختیار کیا جائے۔





