طارق رحمان کی بی این پی کی فتح (فوٹواے پی)
بنگلہ دیش کے ووٹروں نے طارق رحمان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے حق میں فیصلہ سنایا ہے ۔ نتائج میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے دو تہائی نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل کی ۔ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی۔
بنگلہ دیش نے بدلاؤ کا ایک مرحلہ عبور کرلیا ہے ۔ ووٹروں نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔ نتائج میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے دو تہائی نشستوں کے اکثریت حاصل کی ۔ بی این پی اتحاد نے 299 میں 209 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ واضح رہے کہ سادہ اکثریت کے لیے151 نشستیں درکار ہیں۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے صدر طارق رحمان دو سیٹوں ڈھاکہ۔17 اور بوگرا سے میدان میں تھے اور انھوں نے ان دنوں ہی نشستوں پر جیت حاصل کی۔ انتخابات کے نتائج بی این پی اور اس کے قائد طارق رحمان کے لیے ایک ڈرامائی موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ رحمان اب بنگلہ دیش کے اگلے وزیرِاعظم بننے جارہے ہیں ۔ عوام کے اُمیدوں کوحقیقت میں بدلنے کی اُن پربڑی ذمہ داری ہے۔
نتاج اورالیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش کے مطابق عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے 209 جبکہ جماعتِ اسلامی نے 68 نشستیں حاصل کی ہیں۔ جمعے کے روزالیکشن کمیشن کے سکریٹری اختر احمد نے میڈیا کو بتایا کہ 297 مجموعی نشستوں میں سے 209 بی این پی جبکہ 68 پر جماعت اسلامی کے اُمیدوار کامیاب ہوئے۔
میدانِ سیاست میں جماعت اسلامی
جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بنی۔ انتخابات میں یہ جماعت اسلامی کی اب تک کی بہترین کارکردگی ہے۔ جماعت اسلامی پر 2013 میں پابندی عائدکردی گئی تھی۔شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد،جماعت اسلامی پر سے پابندی ہٹائی گئی تھی۔
جماعت اسلامی کی حلیف اور شیخ حسینہ حکومت کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرنے والی جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی صرف 6 سیٹیں حاصل کرسکی۔ نیشنل سٹیزن پارٹی نے 30 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے۔
چٹاگانگ کے دوسیٹیں اور عدالت میں زیرسماعت معاملہ
الیکشن کمیشن کے سکریٹری کےمطابق چٹاگانگ کے دو انتخابی حلقوں کے نتائج اس وقت تک جاری نہیں کیے جائیں گے جب تک کہ لون کیس میں اپیل کا نمٹارا ہائی کورٹ میں نہیں ہو جاتا۔ بی این پی کے سرور عالمگیر غیر سرکاری طور پر چٹاگانگ-2 اور بی این پی کے اسلم چودھری چٹاگانگ-4 حلقے پر کامیاب ہوئے ہیں۔
اصلاحات کے حق میں عوام
ریفرنڈم کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے سکریٹری اخترنے کہا کہ چار کروڑ 80 لاکھ افراد نے ’ہاں‘ جبکہ 2 کروڑ 25 لاکھ 65 ہزار 627 افراد نے ’نفی‘ میں ووٹ دیا۔چٹاگانگ کے ان دو حلقوں کے ریفرنڈم کے نتائج بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں۔




