مناسک حج کا آغاز، روح پرور مناظر

Published On: 25 May, 2026 11:56 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
مناسک حج کا آغاز، روح پرور مناظر

(فوٹورائٹرز)

مناسک حج کا آغاز ہو گیا ہے ۔ لاکھوں عازمین خیموں کے شہر منیٰ پہنچ گئے ہیں جو رات منیٰ میں قیام کریں گے۔عازمین منگل 9 ذی الحج کو حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کے لیے منیٰ سے عرفات روانہ ہو ں گے۔

مناسک حج کا آغاز ہو گیا ہے ۔ لاکھوں عازمین خیموں کے شہر منیٰ پہنچ گئے ہیں جو رات منیٰ میں قیام کریں گے۔ عازمین کے منیٰ پہنچنے کا یہ عمل آج( پیر،8 ذی الحجہ ہ،) دوپہر تک جاری ر ہا ۔ عازمین  منگل 9 ذی الحج کو حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کے لیے منیٰ سے عرفات روانہ ہو ں گے۔

منیٰ مکہ معظمہ اور مزدلفہ کے درمیان حرمین کی حدود کے اندر واقع ہے۔ منیٰ مسجد حرام سے شمال مشرق میں 7 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ اس کے شمال اور جنوب کی سمتوں میں پہاڑ ہیں۔ یہاں صرف حج کے ایام میں قیام کیا جاتا ہے۔ مکہ معظمہ کی سمت میں منیٰ میں جمرہ عقبہ واقع ہے جبکہ مزدلفہ کی طرف وادی محسر ہے۔

منیٰ میں کئی ایک اسلامی آثار ہیں۔ ان میں مسجد الخیف شامل ہے۔ اس مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے قبل انبیا نے نماز ادا فرمائی۔ اس کے علاوہ اس میں مسجد بیعت واقع ہے۔ اسی مقام پر بیعت عقبہ اول اور بیعت عقبیٰ دوم ہوئی تھی۔

 منگل کے روز (9 ذوالحجہ) رکن اعظم وقوف عرفات ہوگا۔ 9 ذوالحجہ کو ظہر سے پہلے تمام عازمین کو بسوں، مشاعر ٹرین سے میدانِ عرفات پہنچایا جائے گا ۔

9 ذو الحجہ کو حجاج کرام خطبہ حج سماعت کرنے کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں اپنے اپنے خیموں میں ادا کریں گے ۔ غروب آفتاب تک حجاج ذکرواذکار اور دعاؤں میں مشغول رہیں گے۔ وقوف عرفہ کے بعد مغرب کی نماز ادا کیے بغیر حجاج مزدلفہ پہنچیں گے اور وہاں مغرب اور عشا کی نماز ادا کریں گے اور رمی کیلئے 70 کنکریاں چنیں گے۔

10 ذوالحجہ کی صبح وقوف مزدلفہ کے بعد حجاج بڑے شیطان کی رمی کریں گے اور قربانی کے بعد حجاج کرام حلق کروانے کے بعد احرام اتار دیں گے۔10 ذو الحجہ کو عید ہوگی۔ 10تا 12 ذو الحجہ کے درمیان کسی بھی وقت حج کا تیسرا فرض طواف زیارت اور واجب سعی کریں گے۔ 11 اور 12 ذو الحجہ کو منیٰ میں تینوں شیطانوں کی رمی کریں گے اور اپنی رہائش گاہ پر واپس جائیں گے۔

اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے حجاج کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جن میں بڑی تعداد فضائی راستے سے مکہ پہنچی ہے۔حکام کے مطابق مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور دیگر مقدس مقامات پر حاجیوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان اقدامات میں حکومت کی جانب سے صحت، ٹرانسپورٹ اور مختلف زبانوں میں رہنمائی سمیت وسیع انتظامات شامل ہیں جبکہ سعودی وزارت صحت کے مطابق رواں سال پہلی مرتبہ عازمین حج کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

 سعودی عرب کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ حج کے دوران مکہ مکرمہ اور گرد و نواح میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔سعودی حکام نے حجاج کرام کو ہدایت کی ہے کہ وہ دھوپ سے بچاؤ، پانی کا زیادہ استعمال اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔