فوٹو اے آئی
ممکنہ معاہدے پر جاری مذاکرات کے دعوؤں کے درمیان امریکہ اور ایران ایک دوسرے پرحملہ آور بھی ہیں۔امریکہ نے ایران میں گوروک اور جزیرہ قشم میں ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جب کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج نے آج (ہفتہ،6 جون) آبنائے ہرمز کی جانب ایران کی طرف سے بھیجے گئے ڈرونز کو مار گرانے کے بعد ایرانی ساحلی ریڈار تنصیبات پر حملے کیے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ تازہ ترین کشیدگی ہے جس نے دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ،ایک امریکی عہدیدار نے تایا کہ امریکی فوج کا خیال ہے کہ ایران کے چار ڈرونز خطے میں سمندری آمدورفت کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ اس کے بعد امریکہ نے آبنائے ہرمز پر واقع گورک اور جزیرہ قشم میں ایران کے نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے چار آئل ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی، جن کے بارے میں ایران کا کہنا تھا کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر گزر رہے تھے۔
کویتی سرکاری میڈیا کے مطابق فضائی دفاعی نظام نامعلوم ذرائع سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کو روک رہا تھا جب کہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے دونوں ممالک میں امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ چھ میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے جب کہ ساتواں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپیں اورممکنہ معاہدہ
امریکہ اور ایران تین ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے ایک عبوری معاہدے پر پہنچنے کی خاطر زیادہ تر بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات کو بعد کی بات چیت کے لیے چھوڑا جانا تھا۔تاہم وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں کے باعث کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا۔
کسی بھی ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر تہران اربوں ڈالر کی تیل آمدنی تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اسی آبنائے سے گزرتا تھا، تاہم ایران نے مؤثر طور پر اس راستے کو بند کر رکھا ہے۔
ٹرمپ پربڑھتادباؤاورایران کاسخت موقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اس غیر مقبول جنگ کا خاتمہ کریں۔ انہوں نے این بی سی کو بتایا کہ اگرچہ ایران کی زیادہ تر ڈرون اور میزائل سازی کی تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں، تاہم ایرانیوں کے پاس اب بھی اپنے تقریباً پانچویں حصے کے میزائل موجود ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ان کے پاس اب بھی کچھ میزائل اور کچھ ڈرون موجود ہیں۔ فیصد کے اعتبار سے شاید ان کے پاس اپنے تقریباً 21 سے 22 فیصد میزائل باقی ہیں۔ یہ اب بھی بڑی تعداد ہے، لیکن اتنی نہیں جتنی ہمارے پہلے حملے کے وقت تھی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایران کی قیادت واقعی اتنی ہی دباؤ میں ہے جتنا وہ بیان کرتے ہیں تو پھر وہ معاہدے پر آمادہ کیوں نہیں ہو رہی، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ کیونکہ وہ مضبوط ہیں۔ وہ باوقار ہیں۔ انہیں اب ایسے کام کرنے پڑ رہے ہیں جن کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد تہران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور آبنائے ہرمز سے جہازرانی تقریباً بند کر دی۔
تنازع،تیل کی بڑھتی قیمتیں اورایران کی شرائط
اس تنازع نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور دیگر مصنوعات کی ترسیل کے سلسلوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام نے جمعے کے روز کہا کہ ایندھن اور نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات لاکھوں افراد کو بھوک کے مزید قریب لے جا رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے جمعے کے روز سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن معاہدہ اس بات سے مشروط ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی اثاثوں میں منجمد کیے گئے 24 ارب ڈالر بحال کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے شروع کیے تو وہ ایک تاریک سرنگ میں داخل ہو جائے گا۔
جنگ بندیوں کے باوجود خطے میں لڑائی
لبنان میں جاری ایک متوازی تنازع میں مسلح تنظیم حزب اللہ نے جمعے کو کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر دو حملے کیے ہیں، جن میں حال ہی میں قبضے میں لیے گئے بیوفورٹ کے قریب ایک حملہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب لبنانی سکیورٹی اداروں کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں نے جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں کو نشانہ بنایا۔
ایران نے حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلائے۔ تہران نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کو واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی شرط قرار دیا ہے۔حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تازہ لڑائی مارچ کے آغاز میں شروع ہوئی تھی۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں تہران کی حمایت میں کی جا رہی ہیں۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اس ہفتے لبنان میں لڑائی روکنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے اسرائیل اور لبنانی حکومت کے معاہدے کو مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق اس معاہدے میں اسرائیلی انخلا شامل نہیں تھا اور حزب اللہ مذاکرات کا فریق بھی نہیں تھی۔اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی امریکی ناراضی کے باوجود وہ اپنی افواج واپس نہیں بلائے گا اور نہ ہی کارروائیاں روکے گا۔




