(فوٹواے پی)
فلپائن میں آنے 7.8 شدت کے زلزلے نے جنوبی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک، 200 سے زائد زخمی ہو گئے۔
فلپائن میں آج( پیر،8 جون) سمندر کے اندر آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے نے جنوبی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک، 200 سے زائد زخمی ہو گئے جب کہ ایک میٹربلند سونامی کی لہریں قریبی ساحلی علاقوں سے ٹکرا گئیں۔
شدید متاثرہ شہر جنرل سانتوس میں کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا۔ کم از کم ایک جنوبی ساحلی گاؤں میں سونامی سے نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ انڈونیشیا، پلاؤ اور جنوبی جاپان تک بھی چھوٹی لہریں ریکارڈ کی گئیں۔
زلزلے کے باعث صوبہ سرانگانی کے علاقے گلان میں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی، جس میں 13 افراد ہلاک ہو گئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے عہدیدار رینی پونزالان نے ڈی زیڈ بی بی ریڈیو نیٹ ورک کو بتایا کہ سرانگانی میں مزید چارافراد بھی جان کی بازی ہار گئے۔
فلپائن انسٹیٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی کے ڈائریکٹر ٹیریسیٹو باکولکول کے مطابق یہ رواں سال فلپائن میں آنے والا سب سے طاقت ور زلزلہ تھا۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ تباہ شدہ عمارتوں اور گھروں میں واپس جانے سے قبل ماہرین سے مشورہ کریں کیونکہ آفٹر شاکس کے باعث عمارتیں گر سکتی ہیں۔
فلپائن کے معاہداتی اتحادی امریکہ نے کہا کہ وہ منیلا حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے اور امدادی کارروائیوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ فرانس اور نیوزی لینڈ نے بھی اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
سول ڈیفنس آفس کے علاقائی ڈائریکٹر راڈ سوسمینا نے جنرل سانتوس سے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایاکہ ہماری پک اپ گاڑی اچانک زور سے ہلی اور مجھے لگا کہ شاید ٹائر پنکچر ہو گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ زلزلے کے جھٹکے انتہائی شدید تھے اور لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے تھے۔
حکام کے مطابق سات لاکھ سے زائد آبادی والے بندرگاہی شہر جنرل سانتوس میں کم از کم 12 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ امدادی اور ریسکیو ٹیمیں ایسے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں جو ممکنہ طور پر ایک سپر مارکیٹ، گودام، پرائمری اسکول اور دیگر چھوٹی عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے ہوں، جو یا تو منہدم ہو چکی ہیں یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔
فلپائن کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ جنرل سانتوس کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ عارضی طور پر بند کر دیا گیا جب کہ 17 اندرونِ ملک پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
زلزلے کا مرکز منڈاناؤ جزیرے کے ساحل سے سمندر میں واقع تھا، جو فلپائن کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا جزیرہ ہے۔ باکولکول کے مطابق زلزلہ 33 کلومیٹر (20 میل) گہرائی میں آیا اور اس کا مرکز صوبہ سرانگانی کے قصبے ماسیم سے تقریباً 32 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔
فلپائن کے صدر فرڈینانڈ مارکوس جونئیر نے تعلیمی اداروں میں کلاسیں معطل کرنے کا حکم دیا اور امدادی اداروں کو فوری طور پر متاثرہ صوبوں میں کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہاکہ حکومت متحرک ہے اور ہم منڈاناؤ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے بتایا کہ زلزلے کے تقریباً پانچ گھنٹے بعد سونامی کا خطرہ بڑی حد تک ختم ہو گیا تھا۔ فلپائنی حکام نے بھی دوپہر تک سونامی وارننگ واپس لے لی۔
حکام کے مطابق صوبہ زامبوانگا ڈیل سور کے ایک ساحلی گاؤں میں زلزلے اور بلند لہروں کے باعث کھمبوں پر قائم چھ جھونپڑیوں کو نقصان پہنچا۔
سرانگانی میں لینڈ سلائیڈنگ کے علاوہ دیگر زیادہ تر اموات عمارتیں گرنے اور ملبہ گرنے کے باعث ہوئیں، جن میں ایک متاثرہ مسجد بھی شامل ہے۔ یہ اموات جنوبی صوبوں ساؤتھ کوتاباتو، داواؤ آکسیڈینٹل اور جزیرہ بالوت میں رپورٹ ہوئیں۔
اپریل اور مئی کی گرمیوں کی تعطیلات کے بعد پیر کے روز ملک بھر میں سرکاری اسکول دوبارہ کھلے تھے۔ دیانگہیرانگ کے مطابق ان کے جنوبی علاقے میں صبح کی پرچم کشائی کی تقریبات میں شریک 100 سے زائد طلبہ کو معمولی چوٹیں آئیں جب کہ خوف و ہراس کے باعث بعض بچے بے ہوش بھی ہو گئے۔
منیلا کے ڈی زیڈ آر ایچ ریڈیو نیٹ ورک نے رپورٹ کیا کہ صوبائی اسٹیشن پر مشتمل چار منزلہ تجارتی عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی، تاہم عملے کے ارکان بروقت نچلی منزل پر پہنچ گئے اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔




