(فوٹواے پی)
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تین ماہ پرانی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدہ اسی ہفتے طے پا سکتا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی تیل منڈیوں کو استحکام ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ زیر غور ہے جو جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گا اور ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی ضمانت دے گا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو نائب صدر جے ڈی وینس کو دستخطی تقریب میں بھیجا جا سکتا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں میں متعدد بار کسی بڑی پیش رفت یا معاہدے کا عندیہ دے چکے ہیں، تاہم اس بار انہوں نے غیرمعمولی اعتماد کا اظہار کیا۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ابھی کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جاسکا ہے۔
ایران کواب ہم سے معاہدے یں دلچسپی۔ ٹرمپ
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ فوجی دباؤ اور حملوں کے بعد ایران شدید مشکلات کا شکار ہے اور اب معاہدہ کرنے میں پہلے سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔
ان کے مطابق، انہوں(ایران) نے ایسی مار برداشت کی ہے جو بہت کم قومیں برداشت کر سکتی ہیں اور اب وہ مجھ سے زیادہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو جنگ کے آغاز میں زخمی ہونے کے بعد منظر عام سے غائب ہیں، ممکنہ معاہدے کی منظوری دینے کے لیے تیار ہیں۔
سخت دھمکیوں کے بعد لہجے میں نرمی
معاہدے کی امید ایسے وقت جگی ہے جب چند گھنٹے قبل ہی ٹرمپ نے ایران پر مزید شدید حملوں اور ایران کی تیل و گیس صنعت پر کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے خلیج فارس میں ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ (Kharg Island) کو بھی نشانہ بنانے کا عندیہ دیا تھا۔
تاہم اس کےبعد انہوں نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز سے گفتگو میں اشارہ دیا کہ وہ براہِ راست فوجی مداخلت کے نتائج پر غور کر رہے ہیں اور سوال اٹھایا کہ آیا امریکی عوام مزید جنگ کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر شدید حملوں کے احکامات منسوخ کر دیے گئے ہیں کیونکہ سفارتی حل قریب دکھائی دے رہا ہے۔
ثالثی میں پاکستان، ترکی اور قطر سرگرم
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایران ڈائریکٹر علی واعظ کے مطابق پاکستان، ترکی اور قطر کے ثالث گزشتہ کئی دنوں سے ایران کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہیں اور مذاکرات میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
واعظ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایک طرف خود کو سخت موقف رکھنے والا رہنما دکھانا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ جنگ سے نکلنے کے لیے ایک قابلِ قبول راستہ بھی تلاش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو فتح کا جشن بھی چاہیے اور باعزت اخراج بھی، لیکن دونوں مقاصد کو ایک ساتھ حاصل کرنا آسان نہیں۔
ایران کا اسرائیل پر حملہ
تجزیہ کاروں کے مطابق صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ایران نے گزشتہ ہفتے جنگ بندی کے بعد پہلی بار براہِ راست اسرائیل پر حملہ کیا۔ یہ کارروائی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی تھی۔
اس اقدام نے نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کے لیے بھی جنگ کے ممکنہ اخراجات بڑھا دیے کیونکہ واشنگٹن اسرائیل کے دفاع کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کر چکا ہے۔
آبنائے ہرمز بدستور بند
اگرچہ ٹرمپ بار بار دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ جنگ میں برتری حاصل کر چکا ہے، لیکن ایران اب بھی آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے جنگ سے قبل عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔ اس راستے کی بندش نے عالمی تیل قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے۔
امریکہ میں جنگ غیر مقبول
امریکی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ کو عوامی سطح پر زیادہ حمایت حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پر جنگ ختم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ریپبلکن رکن کانگریس مائیکل میک کول کا کہنا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر مذاکرات کو طول دینا چاہتا ہے تاکہ امریکہ کے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے قریب سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو سکے۔
ایران جنگ کے سائے میں جی 7 سربراہی اجلاس
آئندہ ہفتے فرانس میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس(G7 Summit ) میں بھی ایران جنگ ایک اہم موضوع رہے گی۔ ٹرمپ پہلے ہی برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے لیڈروں پر تنقید کر چکے ہیں کیونکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگی حکمت عملی کی مکمل حمایت نہیں کر رہے۔یورپی لیڈروں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ پر اتحادیوں سے مشاورت کیے بغیر جنگ میں شامل ہونے اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔
تاہم ٹرمپ پُرامید ہیں کہ جی 7 اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے۔




