ایرانی سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے والد کے جنازے کے بعد اپنے پہلے پیغام میں خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ اس بیچ،ایران اورامریکہ کی قیادت ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے والد کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اسے قوم کی خواہش قرار دیا ہے۔
ایکس پر اپنے پیغام میں ایرانی سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے شہید علی خامنہ ای کے جنازے میں عوام کی کثیرتعداد میں شرکت پر شکریہ ادا کیا ۔ والد کے جنازے کے بعد اپنے پہلے پیغام میں انہوں نے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ شہید لیڈر اور گزشتہ دو جنگوں کے شہدا کے خون کا بدلہ قاتلوں سے لیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی عوام کے دشمنوں سے شہدا کے خون کا یہ انتقام لینا بالکل یقینی ہے اور انتقام کا یہ مطالبہ پوری قوم کا ہے جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ان تمام مجرموں کی فہرست موجود ہے جنہوں نے دو جنگوں میں ہمارے لوگوں کو قتل کیا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ ان مجرموں اور قاتلوں کی طبعی موت نہیں ہوگی اور مجرموں کا سکون سے مرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا، بلکہ انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ہم رہیں یا نہ رہیں، یہ انتقامی مشن جلد یا بدیر ضرور مکمل ہوگا۔
امریکہ اور ایران میں دھمکیوں کا تبادلہ
اس بیچ حملوں کی تازہ لہرکے بعدامریکہ۔ایران عبوری معاہدہ مزید دباؤ کا شکار ہے جبکہ دونوں ممالک کی قیادت ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کو مزید میزائل حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو واضح طور پر اعلان کرنا ہوگا کہ آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے محفوظ ہے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
امریکی حکام کا موقف ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی، جس کے نتیجے میں امریکہ نے ایران پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں مختلف اہداف پر جوابی کارروائیاں کیں۔
دوسری جانب ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر امریکہ مخالف نعرے لگائے گئے اور صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کے مطالبات بھی سنائی دیے۔
اس کے بعد ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے والد کے قتل کا بدلہ لینا ایرانی قوم کا عزم ہے اور یہ انتقام ضرور لیا جائے گا۔
ایران نے اب تک امریکہ کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا کہ آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھلا رکھنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔ تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے کنٹرول میں رہے گی اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے محصولات وصول کرنا اس کا حق ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے جمعے کو عبوری جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے۔
اس بیچ ،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کو مزید مذاکرات کے لیے عمان پہنچ گئے ہیں جبکہ ایک روز قبل قطری ثالث بھی ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے تہران گئے تھے تاکہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی میں سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔




