پاکستان میں پولیوکے پھیلنے کاخطرہ(تصویررائٹرز)
Rising polio cases in Pakistan:پاکستان میں پولیووائرس کا مکمل خاتمہ دیرینہ خواب ہے۔ حالانکہ پولیوکے خلاف مہم مسلسل جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس کا خاتمہ اب تک نہیں ہوسکا ہے۔اس بیچ،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی تازہ رپورٹ تشویش کا باعث ہے۔اس رپورٹ میں ملک کے 4 مختلف علاقوں سے پولیو وائرس ٹائپ 1 کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔معاملے کوسنجیدگی سے لیتے ہوئے ویراعظم شہبازشریف نے ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے۔
پاکستان میں پولیوایک بارپھرسراٹھارہا ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی تازہ رپورٹ اس جانب اشارہ کرتی ہے جو تشویش ناک ہے اور توجہ طلب بھی۔
۔میڈیارپورٹس کے مطابق، نیشنل انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں ملک کے 4 مختلف علاقوں سے پولیو وائرس ٹائپ 1 کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس وائرس کو پولیو کی سب سے خطرناک قسم مانا جارہا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے 15ماحولیاتی نمونے لاہور، راولپنڈی، دیامر اور جنوبی وزیرستان سے لیے تھے۔ان میں10 نمونوں میں پولیو وائرس ٹائپ 1 کی تصدیق ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق پولیو وائرس ٹائپ 1 اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے۔یہ متاثرہ کو زندگی بھر کے لیے مفلوج کر سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ وائرس جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ عام طور پر آلودہ پانی اور ماحولیاتی آلودگی سے یہ پھیلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماحولیاتی نمونوں کی جانچ کو انسداد پولیو مہم میں اہمیت دی جاتی ہے۔
پولیو وائرس کے پھوٹ پڑنے کے خطرے کے پیش نظر وزیراعظم شہبازشریف نے خصوصی اجلاس 27اگست کو طلب کیا ہے۔اجلاس وزیراعظم دفترمیں ہوگا جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز شرکت کرینگے۔اجلاس میں ملک میں انسداد پولیو اقدامات اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
پولیو وائرس ٹائپ 1 کی موجودگی کی تصدیق کے بعد نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے انسداد پولیو مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مہم یکم ستمبر سے 7 ستمبر تک چلائی جائے گی۔ اس دوران 5 سال سے کم عمر 2 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے تاکہ مستقبل میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ یہ مہم چاروں صوبوں اور تمام ریجنز کے 99 اضلاع میں منعقد کی جائے گی۔
خیال رہے کہ پولیو وائرس ٹائپ 1 دنیا کے بیشتر ملکوں سے ختم ہو چکا ہے۔ یہ وائرس صرف پاکستان اور افغانستان ابھی تک موجود ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل مہمات اور عوامی تعاون ناگزیر ہے۔




