پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازع کا شاخسانہ

Published On: 28 October, 2025 08:05 PM

Muhammad Ajmal : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter

پاکستان میں ٹماٹر کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ(فوٹو رائٹر)

افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازع کا بارعام پاکستانی شہریوں کی جیب پر پڑرہا ہے۔ روزمرہ استمعال کی ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ۔ ٹماٹرکی قیمت فی کلو 600 تک پہنچ گئی ہے۔


پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں آگ لگی ہے۔ بڑھتی قیمتوں سے عوام پریشان ہیں۔ حتیٰ کہ قومی اسمبلی میں بھی اس کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ 11 اکتوبر سے افغانستان کے ساتھ شروع ہونے والی شدید جھڑپوں اور پاکستانی فضائی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہیں بند ہیں ۔ سرحدکے آر پار ہزاروں ٹرک درماندہ ہیں ۔ دونوں ملکوں کے بیچ تجارتی سرگرمیاں رک گئی ہیں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاک افغان چیمبر آف کامرس کے سربراہ جان الکوزے  کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو روزانہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ 23 بلین ڈالر کی سالانہ تجارت،اب مکمل طور پر رک چکی ہے  جس میں تازہ پھل، سبزیاں، معدنیات، ادویات، گندم، چاول، چینی، گوشت اور دودھ کی مصنوعات شامل ہیں۔ 

جس کی وجہ سے پاکستان میں ٹماٹر کی قیمت 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ، پاکستان میں  ادرک 750 روپے، لہسن 400 روپے فی کلو، مٹر 500 روپے،شملہ مرچ، بھنڈی 300 روپے،  پیاز 120 روپے،، کھیرے 150 روپے، دیسی گاجر 200 روپے اور لیموں 300 روپے کلو  فروخت ہو رہے ہیں۔ 

پاک افغان چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے ، کابل میں رائٹرز کو بتایا کہ ہمارے پاس سبزیوں کے 500 کنٹینر روزانہ برآمد کے لیے تیار ہوتے تھے لیکن اب وہ سب خراب ہو چکے ہیں۔ طورخم سرحد پر ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ دونوں طرف 5000 کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بازار میں ٹماٹر، سیب اور انگور کی قلت ہے۔

 انسٹاگرام ویڈیوز میں لوگوں کو یہ نعرے لگاتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے کہ ٹماٹر پہلے ہندوستان سے آتے تھے، اب کہاں گئے؟مہنگائی پر پاکستانی پارلیمان میں بھی ہنگامہ ہوا۔اپوزیشن نے حکومت پر ناکامی کا الزام لگایاہے۔

imran is good boy

1 :کل ووٹ