بدعنوانی کےکیس میں عمران خان اوربشرٰیٰ کو 17، 17 سال قید کی سزا

Published On: 21 December, 2025 08:46 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بدعنوانی کےکیس میں عمران خان اوربشرٰیٰ کو 17، 17 سال قید کی سزا

فوٹو رائٹرز

اسلام آباد کی ایک عدالت نے توشہ خانہ ٹو معاملے میں پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اوران کی اہلیہ شریٰ بی بی کو الگ الگ دفعات کے تحت 17، 17 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

 

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بدعنوانی کے معاملے میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق،اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں  عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 409 کے تحت 10،10 جبکہ دفعہ 2، 5 اور 47 کے تحت  7، 7 سال کی سزاسنائی ہے۔ عدالت نے دونوں پر ایک کروڑ 64 لاکھ 500 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کیے جانے کی صورت میں مزید چھ، چھ ماہ قید کی سزا ہوگی۔

عدالت کےتحریری فیصلے کے مطابق عمران خان کو زائدالعمر ہونے اور بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے پر کم سزا دی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ مجرموں کے عرصہِ حوالات کو بھی سزا میں شامل کرلیا گیا ہے۔

اس کیس کی 80 سے زائد سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہوئیں۔ 59 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلے میں عدالت نے وزارتِ خارجہ کے ذریعے حاصل کیے گئے خط کا بھی ذکرکیا، ایف آئی اے نے غیر ملکی کمپنی سے جائیداد کی اصل قیمت کا تعین کروایا، تحریری فیصلے کے مطابق سات کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد کی انڈرانوائسنگ کی گئی، جائیداد کی قیمت 59 لاکھ ظاہر کرکے 69 لاکھ روپے میں ظاہر شدہ ڈیل مکمل کی گئی۔ملزمان نے اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے نجی ویلیوایٹر سے کم قیمت لگوائی، ظاہر شدہ قیمت کا صرف 50 فیصد جمع کرا کے جائیداد کو اپنے قبضے میں لیا، جسے عدالت نے بدنیتی اور مالی بدعنوانی قرار دیا۔

عدالت نے استغاثہ کے پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر دونوں ملزمین کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے سزا سنائی۔اس کیس میں 12 دسمبر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ سے نیب ترامیم بحالی فیصلے کے بعد 9 ستمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس ایف آئی اے اینٹی کرپشن عدالت کو منتقل ہوا۔ ایف آئی اے نے اس کیس میں اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5 اور پی پی سی کی دفعہ 409 شامل کیں۔ جس کے بعد 16 ستمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل شروع ہوا، اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے 16 ستمبر کو توشہ خانہ ٹوکیس کی پہلی سماعت اڈیالہ جیل میں کی۔ کیس میں کُل 21 گواہان تھے، جن میں سے 18 گواہان کے بیانات قلمبند کرکے ان پر جرح مکمل کی گئی۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2021 میں سعودی عرب کے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان سے حاصل کردہ بلگاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا۔

عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اس بلگاری جیولری سیٹ کی اصل قیمت سات کروڑ پندرہ لاکھ روپے سے زائد تھی، جس کے انہوں نے پرائیویٹ فرم سے 58 لاکھ روپے قیمت لگوائی اور 29 لاکھ روپے دے کر تحفہ اپنے پاس رکھ لیا۔

دفتر خارجہ اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے سے حاصل شدہ ریکارڈ کے مطابق اس سیٹ کی اصل مالیت بہت زیادہ تھی۔
بشریٰ بی بی کو 31 جنوری 2024 کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے خود جیل جا کر گرفتاری دی۔ 

12 ستمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی تین رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی۔ 

بانی پی ٹی آئی عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف توشہ خانہ کیس کے علاوہ 16 دیگر مقدمات بھی درج ہیں۔