صحت مند رہنے کے لیے زیادہ یا متوازن کھانا کھانا کھائیں؟
کتنا کھانا صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے؟ظاہر ہے اس کاتعین کرپانا مشکل ہے۔اس کے کئی عوامل ہیں۔ کیا پلیٹ کی سائز بھی آپ کو زیادہ کھانے پر مجبور کرسکتی؟ کبھی یہ سوال ذہن آیا ہے؟
کھاناہماری ضرورت ہے۔ صحت مند رہنے کے لیے یہ ناگزیرہے ۔ کتنا کھانا صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے؟ظاہر ہے اس کاتعین کرپانا مشکل ہے۔ اس کے کئی عوامل ہیں۔ پسند کا کھانا ملنے پر انسان زیادہ کھاہی لیتا ہے؟محفل یا عزیرواقارب کا ساتھ ہو توپھر کیا کہنے؟کیا پلیٹ کی سائز بھی آپ کو زیادہ کھانے پر مجبور کرسکتی؟ کبھی یہ سوال ذہن آیا ہے؟
ایک بات تو طئے ہے کہ شادیوں یا دیگر تقاریب میں ،اگر ہم پلیٹوں میں پیش کیے جانے والے کھانے کو دیکھیں توپتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ہمارے کھانے کی اوسط مقدار میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ عموماً لوگ جانتے ہیں کہ اُن کے لیے کتنا کھانا کافی ہے لیکن کھانا کھاتے وقت وہ کتنا کھاتے ہیں اس کا انحصار بہت سے عوامل پر ہے۔ بھوک کی شدت،پسندوناپسندید،وقت،موڈ،محفل وغیرہ وغیرہ۔ان سب عوامل کے ساتھ ساتھ،ہمارے کھانے کی مقدار اس بات پر بھر منحصر ہے کہ ہم جس پلیٹ میں کھا رہے ہیں وہ کتنی بڑی ہے۔
اس حوالے سے تحقیقات ہوچکی ہیں ۔ محققین نے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ ہم کن حالات میں زیادہ کھاتے ہیں اور اس کے ہماری صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
کب زیادہ کھاتے ہیں ہم؟
میڈیا رپورٹ کے مطابق،لیڈز یونیورسٹی میں بھوک اور توانائی کے توازن کے ماہر پروفیسرجیمزاسٹبس بتاتے ہیں۔ جب لوگ بھوک سے زیادہ یااپنی ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں تو ان میں ایسی چیزیں کھانے کی عادت پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوں۔ایسے میں خوارک زیادہ مقدار میں کھانے کے بُرے نتائج ہوسکتے ہیں۔ہمارے زیادہ کھانے کی اصل وجہ کیا ہے؟اس بابت کوئی واضح تحقیق نہیں ہےلیکن پرکشش مارکیٹنگ اور پری پیکڈ فوڈ پر ہمارا بڑھتا انحصار اس کی وجوہات میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو راغب کرنے کے لیے ریستورانوں اورہوٹلوں کی مارکیٹنگ اسٹرٹیجی بھی اس میں کارفرما ہوسکتی ہے۔ ویلیوفارمنی کھانے کی پیشکش اوربڑی پلیٹوں میں کھانا پیش کرنا گاہکوں کوزیادہ کھانے کی ترغیب دیتا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق،برٹش ڈائیٹک ایسوسی ایشن کی ترجمان اور خوراک کے ماہر کلیئر تھورنٹن وُڈ کا کہنا ہے کہ1970 کی دہائی میں اوسط پلیٹ کی سائز 22 سینٹی میٹر تھی جواب بڑھ کر 28 سینٹی میٹر ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے کھانے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ریستوراں بھی زیادہ کھانا پیش کر رہے ہیں۔ لوگ اس بارے میں الجھن کا شکار ہیں کہ کیا انھیں گھر میں بھی ایسا کرنا چاہیے۔
عام طور پرہمیں کتنا کھانا چاہیے؟
ہرانسان کا ٹیسٹ اور پسند و ناپسند الگ الگ ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ہمارے کھانے کی مقدار کا انحصاربھی بہت سی چیزوں پر ہوتا ہے، جیسا کہ ہماری جنس، وزن، قد،عمر اور روزمرہ کی سرگرمیاں وغیرہ۔
اگر آپ سخت کام کرتے ہیں یا کھلاڑی ہیں تو اس صورت میں زیادہ کھانے کی ضرورت ہو گی۔ اور اگرآپ بیٹھ کر کام زیادہ کرتے ہیں، یعنی آپ کی جسمانی سرگرمیاں محدود ہیں یازیادہ نہیں ہیں، تو آپ کو کم کھانے کی ضرورت ہو گی۔
برٹش ڈائیٹک ایسوسی ایشن کی ترجمان اور خوراک کے ماہر کلیئر تھورنٹن وُڈ کے مطابق یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ آپ دن بھر میں کتنی بار کھاتے ہیں اور کیا کھاتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ،یہ سمجھنے کا ایک آسان طریقہ ہے کہ ہمیں کتنا کھانا چاہیے۔ یہ ہم اپنی ہتھیلی سے جان سکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ،آپ کی ہتھیلی کے برابر مٹن، آپ کے ہاتھ کے برابر چکن یا مچھلی، جتنی سبزیاں آپ دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر لے سکتے ہیں، آپ کے لیے اتنا ہی کھانا کافی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ،وہ دن بھر مٹھی بھر کاربوہائیڈریٹس اور مٹھی بھر پھل کھانے کا مشورہ بھی دیتی ہیں۔
پروفیسرجیمزاسٹبس کےمطابق ، صحت مند خواتین کو روزانہ تقریباً دو ہزار کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ مردوں کو تقریباً ڈھائی ہزار کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کی خوراک کی مقدار اسی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔
پروفیسرجیمزاسٹبس کہتے ہیں کہ ہر شخص الگ ہوتا ہےلہذاکھانے کی اوسط مقدار ہر ایک کی ضروریات کے لیے مناسب نہیں ہوتی لیکن اگر لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں تو یہ ایک مسئلہ بن سکتاہے۔
زیادہ کھانے سے پرہیزکرنے طریقے
برٹش ڈائیٹک ایسوسی ایشن کی ترجمان اور خوراک کے ماہر کلیئر تھورنٹن وُڈ کے مطابق بہت سے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ہر کسی کو ایک جیسی خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہرفرد کوایک مقدارمیں کھانا نہیں دیا جاسکتا،بلکہ کھانا ان کی ضرورت کے مطابق پیش کیا جائے۔آپ کتنا کھاتے ہیں اورکیا کھاتے ہیں اس پرصحت مندغذا کا انحصار ہے۔ کلیئر تھورنٹن وُڈکے مطابق،پروٹین یا فائبر سے بھرپور کھانا کھانے سے آپ طویل عرصے تک پیٹ بھرا ہوا محسوس کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ چکنائی میں کسی بھی دوسری غذا سے زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں، اور یہ آپ کو کھانے کے دوران بھی مطمئن محسوس کرا سکتی ہے۔ وڈ کے مطابق، زیتون کے تیل، مچھلی، گری دار میوے اور بیجوں جیسے کھانے سے صحت مند چکنائی بھی محدود مقدار میں استعمال کرنے کے لیے اچھی ہے۔ پروفیسراسٹبس انتہائی پروسسڈ کھانے سے بچنے کی صلاح دیتے ہیں۔ تاہم، ان کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی پسندیدہ چیزوں کو ترک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پروفیسراسٹبس نے ضرورت اورپسندیدگی کا تناسب کچھ یوں بیان کیا ہے کہ ہماری خوراک کا 80 فیصد صحت مند، کم کیلوریز والی غذائیں ہو سکتی ہیںجبکہ بقیہ 20 فیصد ہماری پسندیدہ یا زیادہ کیلوریز والی غذائیں ہو سکتی ہیں۔تاہم دونوں کی رائے یہ ہے کہ آپ کتنا کھاتے ہیں کی فکر نہ کریں صرف متوازن مقدارمیں کھائیں یہ آپ کی صحت کے لیے کافی ہے۔




