کیا زیادہ جمائیاں آنا نہیں اچھی علامت؟اس کے اسباب وعلاج کیا ہیں؟ جانیں

Published On: 23 August, 2025 06:08 PM

Abdullah Aabid : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
کیا زیادہ جمائیاں آنا نہیں اچھی علامت؟اس کے اسباب وعلاج کیا ہیں؟ جانیں

بار بار جمائی لینا نیند پوری نہ ہونے کی علامت (فوٹوڈریمزٹائم)

جمائی ایک قدرتی عمل ہے ۔ جو تھکاوٹ یا دماغی درجہ حرارت کو منظم کرنے کے لیے جسم کی ضرورت سے جڑا ہے۔ عام طور پر بے ضرر ہونے کے باوجود، ضرورت سے زیادہ جمائی نیند کی خرابی، اضطراب، یا اعصابی حالات جیسے بنیادی مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

 
جمائی ایک قدرتی عمل ہے  جوتھکاوٹ یا دماغی درجہ حرارت کو منظم کرنے کے لیے جسم کی ضرورت سے جڑا ہے۔ عام طور پر بے ضرر ہونے کے باوجود، ضرورت سے زیادہ جمائی نیند کی خرابی، اضطراب، یا اعصابی حالات جیسے بنیادی مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

اگرباربارجمائی آتی ہےیا پھر دفتر میں دوپہر گزارنے کے لیے چائے اور کافی متواترپینی پڑتی ہے تو یہ علامات نیند کی شدید کمی کا اشارہ ہو سکتی ہیں۔سی این این کی رپورٹ مطابق یہ علامات نہ صرف جسمانی طور پر خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں بلکہ طویل عرصے کے لیے صحت کی خرابی کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کے ذریعہ حال ہی میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بار بار جمائی لینا نیند پوری نہ ہونے کی علامت ہے مزید یہ صحت کے لیے مضربھی ہوسکتا ہے۔ دنیا بھر کی کم وبیش 25 مختلف طبی تنظیموں نے امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کے بیان کی تائید کی ہے۔

ادارے کے صدر ڈاکٹر ایرک اولسن کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی صحت کا ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے اثرات نہ صرف انفرادی طور پر بلکہ معاشرتی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں، جیسے نیند کی حالت میں گاڑی چلانا حادثات کا باعث بن سکتا ہے جبکہ دفتر میں کام کاج کے دوران غلطیاں اور دوسری بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔


ماہرین کے مطابق، سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند نہ لینا ذیابیطس، ڈپریشن، دل اور گردے کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور فالج جیسے امراض کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔ امریکہ میں تقریباً ایک تہائی بالغ افراد دن میں ضرورت سے زیادہ غنودگی محسوس کرنے کی شکایت کرتے ہیں۔

نیند کے ماہرین کہتے ہیں کہ لوگ اکثر غنودگی کی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، جیسے کسی بورنگ میٹنگ میں اُونگھ جانا، حالانکہ یہ نیند کی کمی کا واضح اشارہ ہوتا ہے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ماہر ڈاکٹر کرسٹن نٹسن کے مطابق جو شخص پوری طرح آرام کر چکا ہو، وہ بوریت کے باوجود میٹنگ میں اسے نیند نہیں آئے گی۔
پین میڈیسن فلاڈیلفیا میں نیند کی ماہر ڈاکٹر گُرو بھگاوتلہ کا کہنا ہے کہ مسلسل نیند کی کمی دماغی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اور فرد اپنی حالت کا درست اندازہ نہیں لگا پاتا۔ ایسے افراد ردِعمل کے ٹیسٹ، یادداشت اور ہم آہنگی کے امتحانات میں زیادہ غلطیاں کرتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں لگتا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں۔

نیند کی کمی کے دوران دماغ چند سیکنڈ کے لیے مائیکروسلیپ میں جا سکتا ہے، جو گاڑی چلانے یا کسی حساس کام کے دوران مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ ٹریفک حادثات نیند کی حالت میں ڈرائیونگ کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ’ایپورتھ سلیپنیس سکیل‘ جیسے ٹیسٹوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نیند کی کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے یا نہیں۔ اگر کسی شخص کا سکیل پر اسکور 10 سے زیادہ ہو تو طبی معائنہ ضروری ہوتا ہے۔
 
نیند کی کمی کی دیگر وجوہات میں سلیپ ایپنیا، بے خوابی، ریسٹ لیس لیگ سنڈروم، سرکیڈین ردھم کے مسائل، دائمی درد، ادویات اور طرزِ زندگی شامل ہیں۔ زیادہ کیفین، سونے سے پہلے شراب نوشی، منشیات کا استعمال، ورزش کی کمی اور شور یا غیر آرام دہ ماحول میں سونا بھی نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔

ڈاکٹر گُرو بھگاوتلہ کے مطابق بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شراب یا بھنگ کے استعمال سے نیند میں بہتری آتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس سے نیند کا معیار گر جاتا ہے اور اگلے دن تھکن زیادہ محسوس ہوتی ہے۔