میسورو دسہرہ کا بانو مشتاق نے کیا افتتاح(فوٹو دکن کرانیکل)
میسورودسہرہ کی چارسو سالہ تاریخ میں اس سال نئے باب کا اضافہ ہوا۔ چامنڈیشوری مندر میں گیارہ روزہ دسہرہ کا افتتاح ایک مسلم خاتون بانو مشتاق نے کیا۔اس وقع پر ریاست کے وزیراعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اورنمائندہ شخصیات بھی موجود تھیں۔
میسورودسہرہ عالمی شہرت کا حامل ہے۔ میسورودسہرہ کی چارسو سالہ تاریخ میں اس سال نئے باب کا اضافہ ہوا۔ چامنڈیشوری مندر میں گیارہ روزہ دسہرہ کا افتتاح ایک مسلم خاتون بانو مشتاق نے کیا۔انھوں نے دیوی چامنڈیشوری کی پوجا کی اور چراغ روشن کرکے میسورو دسہرہ کا افتتاح کیا۔اس وقع پر ریاست کے وزیراعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اورنمائندہ شخصیات بھی موجود تھیں۔
بانو مشتاق نے اسے تمام خواتین کی مفاہمتی روایت کے لیے اعزازقراردیا۔انھوں نے وزیراعلیٰ سدارامیا اورکرناٹک کے عوام کا شکریہ اداکیا ۔ انھوں نے مزیدکہا کہ وہ برسوں سےتمام مذاہب کی خواتین کے لیے کام کر رہی ہیں ۔ان کے نزدیک یہی انسانیت کا اصل مذہب ہے۔ بانومشتاق کا کہنا ہے کہ دسہرہ سب کا تہوار ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی زمین اور زبان کا احترام کریں اورخوشحالی کے لیے کام کریں۔
انھوں نے مزید کہا کہانھیں اس بات کی خوشی ہے کہ انھیں اس خوشی کے موقع پراتنا اہم کردار ادا کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے بچپن کی یادوں کوتازہ کیا کہ کس طرح وہ اپنے والدین کے ساتھ جمبو سواری دیکھنے جاتی تھیں۔
وزیراعلیٰ سدرامیا نے بانو مشتاق کے نام کا اعلان 22اگست کو کیا تھا۔افتتاحی تقریب میں انھوں نےاس انتخاب کی تائید کی ۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ،بسوانا نے ہمیں مساوات اور ہم آہنگی کا درس دیا اورحکومت انہی اقدارپرعمل پیرا ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ،دسہرہ کا افتتاح کرنے کے لیے بانو مشتاق کومدعو کیے جانےپرکچھ گوشوں سے تنقیدبھی کی گئی لیکن ان کے نزدیک اصل مذہب انسانیت ہے۔ بانو مشتاق کی خدمات اس کی عکاس ہیں ۔ انھوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ، یہ انتخاب سیکولر اقدار کے لیے ہماری حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔
وزیراعلیٰ سدارامیا کے خطوط پرآگے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاست کی کانگریس حکومت ہر شہری کی ہے چاہے وہ کسی مذہب کا ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ بانو مشتاق کو منتخب کرکے حکومت سماج میں اتحاد و مساوات کا پیغام دینا چاہتی ہے۔
بانومشتاق کا تعارف
میسورکی معروف سماجی کارکن بانومشتاق طویل عرصے سے خواتین کوبااختیاربنانے کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔ وہ ایک مفت سلائی اسکول چلا رہی ہیں ۔اس ادارے میں ہزاروں غریب خواتین کو تربیت دی جاتی ہے اور انہیں خود کفیل بنایا جاتا ہے۔ بانو مشتاق کو، ان کی مختصر کہانیوں کے مجموعے’ہارٹ لیمپ‘ کے لیے بین الاقوامی بکر پرائز سے نوازا گیا۔ بانو مشتاق ترجمہ شدہ افسانوں کے لیے انعام جیتنے والی کنڑ زبان کی پہلی مصنفہ ہیں۔77 سالہ بانو مشتاق پچاس ہزار ڈالر کی انعامی رقم اپنی مترجم دیپا بھاستھی کے ساتھ شیئر کریں گی، جنہوں نے ایوارڈ یافتہ مجموعے میں شامل کہانیوں کو منتخب کرنے میں بھی مدد کی تھی۔
تنازع اور دلیل
بانومشتاق پہلی مسلم نہیں ہیں جنھیں دسہرہ کا افتتاح کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ 2017 میں مصنف کے ایس نثار احمد نے تہوار کا افتتاح کیا تھا۔انھوں نے پھولوں کی پتیاں دیوی چامنڈیشوری کی مورتی پرپیش کیے تھے۔۔ اس وقت بھی سدارامیا وزیر اعلیٰ تھے۔ نثاراحمد نے اافتتاح کے لیے مدعو کیے جانے کواعزاز بتایا تھا۔




