اروندھتی رائے (فائل فوٹو رائٹرز)
اروندھتی رائے برلن فلم فیسٹیول میں شرکت نہیں کریں گی۔ بکرانعام یافتہ مصنفہ اروندھتی رائے جیوری کے صدر وم وینڈرس کے غزہ کے حوالے سے کیے گئے تبصرے سے حیران اور دل برداشتہ ہیں ۔
اروندھتی رائے برلن فلم فیسٹیول میں شرکت نہیں کریں گی۔ بکرانعام یافتہ مصنفہ اروندھتی رائے جیوری کے صدر وم وینڈرس کے غزہ کے حوالے سے کیے گئے تبصرے سے حیران اور دل برداشتہ ہیں ۔ وم وینڈر نے غزہ میں اسرائیل کے جنگ کے تعلق سے سوال کے جواب میں کہا کہ سنیما کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔
اروندھتی رائے نے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ وینڈرس اور دیگر جیوری اراکین کے ردِعمل سن کر وہ حیران اور دل برداشتہ ہوئی ہیں ۔
اروندھتی رائے کو برلن فیسٹیول میں مدعو کیا گیا تھا۔انھیں ان کی 1989 کی فلم In Which Annie Gives It Those Ones کا بحال شدہ ورژن کی نمائش میں شرکت کرنے کے لیے بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا۔ اس فلم میں اروندھتی رائے نے اداکاری کی ہے اور اس کااسکرین پلے بھی لکھا تھا۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کے ساتھ وینڈرس اور دیگر جیوری اراکین کے ناقابلِ قبول بیانات نے انہیں دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ جب جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں جرمنی کی اسرائیل کی حمایت کے بارے میں پوچھا گیا تو وینڈرس نے کہا تھا ہم فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں جیوری کی رکن ایوا پوشچِنسکا نے کہا کہ اس مسئلے پر جیوری سے کسی موقف کی توقع رکھناکچھ حد تک ناانصافی ہوگی۔
اروندھتی رائے بے لاگ اور برملا اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ غزہ میں جو ہوا اور ہورہا ہے وہ اسرائیل کے ذریعہ فلسطینیوں کی نسل کشی ہے۔انھوں نے کہا کہ، اسرائیل کو امریکہ، جرمنی اور دیگر یورپی ملکوں کی نہ صرف حمایت حاصل ہے بلکہ وہ فنڈنگ بھی کرتے ہیں۔ اس جرم میں وہ بھی شریک ہیں ۔اروندھی رائے نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ہمارے عہد کے عظیم فلم ساز اور فن کار اس کے خلاف کھڑا ہوکر نہیں کہہ سکتے تو انھیں یہ جان لینا چاہیے تاریخ ان کا محاسبہ کرے گی۔




