پارلیمان کے ایوان بالامیں گونجے کی جموں کشمیر کی آوا‏‏‏‏ز، خالی 4نشستوں کے لیے انتخابات

Published On: 24 October, 2025 07:12 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
پارلیمان کے ایوان بالامیں گونجے کی جموں کشمیر کی آوا‏‏‏‏ز، خالی 4نشستوں کے لیے انتخابات

جموں کشمیر اسمبلی (فوٹو گجرات سماچارانگلش)

جموں کشمیر میں جمعے کے روز راجیہ سبھا کی 4 خالی نشستوں کے لیے ووٹنگ ہے۔ووٹنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوگا اور شام 4 تک جاری رہے گا۔نتائج کا اعلان شام کو ہوگا۔

 
مرکزکے زیرانتظام علاقے جموں کشمیر میں جمعے کے روز راجیہ سبھا کی 4 خالی نشستوں کے لیے ووٹنگ ہے۔ ووٹنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوگا اور شام 4 تک جاری رہے گا۔نتائج کا اعلان شام کو ہوگا۔  2021سے جموں کشمیر میں ایوان بالا کی نشستیں خالی ہیں ۔ خیال رہے ،اس دوران، جموں کشمیر اسمبلی تحلیل تھی۔ مزید یہ کہ ، دفعہ  370 کی منسوخی کےبعد، پچھلے سال اسمبلی انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا تھا ۔
 
 سات اُمیدوار میدان میں ہیں ۔ نیشنل کانفرنس نے سبھی سیٹوں کے لیے اُمیدوار اتارے ہیں جبکہ بی جے پی نے تین اُمیدوار کو میدان میں اتارا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی جانب سے چودھری محمد رمضان،شمی اوبرائے،  سجاد احمد کچلو اور عمران نبی ڈار میدان میں ہیں تو بی جے پی نے ست شرما،علی محمد میر اور راکیش مہاجن کو اُمیدوار بنایا ہے۔
 
90رکنی جموں کشمیر اسمبلی کی بڈگام اور نگروٹہ دو سیٹیں فی الحال خالی ہیں۔ اس وقت اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد88 ہے۔اس تعداد کے حساب سے ایک سیٹ پر جیت کے لیے لگ بھگ 45 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ نیشنل کانفرنس اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی ہے۔اس لیے چار نشستوں میں تین پر وہ جیت کی مضبوط دعویدار ہے۔
 
اعدادوشمارکے مطابق، نیشنل کانفرنس اورکانگریس اتحاد کے پاس اسمبلی میں53 ارکان اسمبلی ہیں جبکہ بی جے پی کے پاس 28 ارکان اسمبلی ہیں۔ پی ڈی پی کے تین ارکان،پیپلز کانفرنس کا ایک، عوامی اتحاد پارٹی کا ایک ، عام آدمی پارٹی کے پاس ایک اور ایک آزاد رکن ہے۔ نزدیکی مقابلے میں ان چھوٹی پارٹیوں کے ارکان کا کردار اہم ہوگا۔
 
اسمبلی میں پارٹیوں کی پوزیشن اور طاقت سے پرے اس چناؤ کی علامتی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ نیشنل کانفرنس کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا یہ ایک موقع ہےوہیں،اگر بی جے پی ایک سیٹ بھی جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے یہ اس کی بڑی کامیابی ہوگی۔آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد،جموں کشمیر کے سیاسی منظرنامے پر وہ ایک مضبوط قوت بن کرابھرے گی۔