جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ (فائل اے این آئی ایکس)
راجیہ سبھا انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے تین جبکہ بھارتیہ جنتاپارٹی نے ایک نشست پر جیت درج کی ۔ نیشنل کانفرنس کے چودھری محمد رمضان،سجاد کچلو اور گرووندر سنگھ عرف شمی اوبرائے کامیاب ہوئے جبکہ بی جے پی کی جانب سے ست شرا نے چوتھی سیٹ حاصل کی ۔
راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج متوقع خطوط پرآئے ۔نیشنل کانفرنس نے تین جبکہ بھارتیہ جنتاپارٹی نے ایک نشست پر جیت درج کی ۔ نیشنل کانفرنس کے چودھری محمد رمضان،سجاد کچلو اور گرووندر سنگھ عرف شمی اوبرائے کامیاب ہوئے جبکہ بی جے پی کی جانب سے ست شرا نے چوتھی سیٹ حاصل کی ۔
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، مرکز کے زیرانتظام جموں کشمیر میں پہلی بار راجیہ سبھا کے انتخابات ہوئے۔ جموں کشمیرمیں ایوان بالا کی چار نشستیں 2021 سے خالی تھیں ۔
نیشنل کانفرنس کی جیت میں کانگریس ، پی ڈی پی ، سی پی آئی(آیم) اور کچھ آزاد پارٹی کا بھی رول رہا۔
جیت کے بعد، جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ، نیشنل کانفرنس نے جموں کشمیر میں راجیہ سبھا کی چاروں سیٹیں حاصل کرنے کی پوری کوشش کی لیکن آخری مرحلے پر کچھ لوگوں نے دھوکہ دیا۔ انھوں نے کہاکہ ،جن لوگوں نے دھوکہ دیا ان کے نام اب سب پرعیاں ہیں میں ان کو دہرانا نہیں چاہتا۔
عمرعبداللہ نے کانگریس، پی ڈی پی اور دوسرے ان تمام ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ ڈالے۔ عمرعبداللہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ نیشنل کانفرنس کا ایک بھی ووٹ ضائع نہیں ہوا۔
انھوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ہماری میٹںگوں میں شامل ہوتے تھے، ہمارے ساتھ کھانا کھاتے تھے، انہیں کھلے عام بی جے پی کی حمایت کرنی چاہیےتھی جس طرح ہندوارہ کے رکن اسمبلی نے بی جے پی کو نقصان نہ پہنچانے کے لیے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ ، پارٹی کے کامیاب ارکان پارلیمنٹ میں عوام کی آوازاٹھائیں گے ۔ وہ ریاستی درجہ،خصوصی حیثیت سمیت دیگر اہم مسائل پر بھی پارلیمان میں آواز اٹھائیں گے۔




