بہار میں عظیم اتحاد میں دراڑ، ہیمنت سورین نے اختیارکی الگ راہ، کیا جھارکھنڈ میں بھی پڑے گا اتحادپر اثر؟

Published On: 19 October, 2025 08:19 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بہار میں عظیم اتحاد میں دراڑ، ہیمنت سورین نے اختیارکی الگ راہ، کیا جھارکھنڈ میں بھی پڑے گا اتحادپر اثر؟

ہیمنت سورین اور تیجسوی یادو(فائل فوٹو اے این آئی)

جھارکھنڈمکتی مورچہ نے آرجےڈی سے ناراض ہوکر 6سیٹوں پر اپنے اُمیدوار اتاردیئے ہیں۔ کیا اس علاحدگی کا اثر جھارکھنڈ میں پڑے گا؟



بہارمیں عظیم اتحاد میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے ۔ آر جے ڈی اور کانگریس میں سیٹوں کے بٹوارے پر پہلے ہی کھینچ تان مچی ہوئی ہے ۔ اب جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے اتحاد سے الگ ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ 

جے ایم ایم نے نہ صرف آر جے ڈی پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا بلکہ 6  اسمبلی سیٹوں، چکائی، دھمداھا، کٹوریا، منی ہاری، جموئی اور پیرپینتی میں اپنا امیدوار کھڑا کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ یعنی عظیم اتحاد میں اختلافات کھل کرسامنے آگئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سنجے یادو جھارکھنڈ میں جے ایم ایم حکومت میں آر جے ڈی کوٹے سے وزیر ہیں۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختلاف بہار تک ہی محدود رہے گی یا جھارکھنڈ میں بھی  اتحاد کو متاثر کرے گی؟

آوازنہیں سنی گئی، جے ایم ایم کاالزام
پٹنہ میں جے ایم ایم کے جنرل سکریٹری سپریو بھٹاچاریہ نے پریس کانفرنس کی اور علاحدگی کی وجہ کی وضاحت کی ۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی عظیم اتحاد لیڈروں کے ساتھ طویل عرصے سے بات چیت کر رہی تھی لیکن آر جے ڈی نے قابل احترام سیٹیں فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ان نشستوں کا مطالبہ کیا جہاں ہمارے کارکن برسوں سے بی جے پی-جے ڈی یو اتحاد کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن ہماری آواز کو نظر انداز کر دیا گیا۔

سپریو نے یہ بھی یاد کیا کہ جے ایم ایم نے 2019 کے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں آر جے ڈی اور کانگریس کو سیٹیں دی تھیں، اتحاد کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ،ہم نے چترا سے آر جے ڈی کے اکلوتے ایم ایل اے کو وزیر بنایا اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے پانچ سال تک ان کا احترام کیا، لیکن اب بہار میں ہمیں بے عزت کیا گیا۔

ہیمنت کے ہاتھ میں مہم کی کمان

جے ایم ایم نے بہار کی چھ نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پارٹی نے 20 اسٹار پرچارکوں کی فہرست بھی جاری کردی ہے۔ بہار میں  پارٹی کی مہم کی قیادت خود ہیمنت سورین  کررہے ہیں۔ اس فہرست میں پروفیسر سٹیفن مرانڈی، سرفراز احمد، کلپنا مرمو سورین، بسنت سورین، اور سپریو بھٹاچاریہ جیسے نام شامل ہیں۔ 

عظیم اتحاد میں کشمکش
جے ایم ایم کے اس اقدام کو بہار میں عظیم اتحاد کے لیے ایک بڑے دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پہلے ہی کئی سیٹوں پر کانگریس اور آر جے ڈی کے درمیان دوستانہ لڑائی ہورہی ہے۔  اب جے ایم ایم کے چناوی اکھاڑے میں الگ اترنے سے اتحاد کے لیے اکوئشن مزید پیچیدہ ہوگیا ہے ۔

کیا جھارکھنڈ میں بھی ٹوٹے گا اتحاد؟
جے ایم ایم کا جھارکھنڈ کے سرحدی علاقوں میں خاص طور پر جموئی لوک سبھا حلقہ میں ہمیشہ  اثر رہا ہے۔ 2010 میں، جے ایم ایم کے سمیت سنگھ نے جیت حاصل کی تھی حالانکہ اس جیت کا سہرا خود پارٹی سے زیادہ نریندر سنگھ کے خاندان کو دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود، جے ایم ایم کا یہ اقدام اشارہ کرتا ہے کہ وہ اب جھارکھنڈ سے آگے پارٹی کو وسعت دینےکی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

 عظیم اتحاد میں اختلاف؟
عظیم اتحاد سے جے ایم ایم کا الگ ہونا اتحاد کے لیے جھٹکا ہے۔ بھلے ہی اس کے محدود اثرات ہوں لیکن اتحاد میں اب تال میل کی کمی صاف نظرآرہی ہے۔ ادھر،آر جے ڈی  اور کانگریس کے بیچ سیٹوں کے بٹوارے پرکھینچ تان مچی ہے۔ ایسے میں انتخابات سے قبل اتحاد میں اختلاف اچھا شگون قطعی نہیں ہے۔ اس سے حریف کو فائدہ ہوسکتا ہے۔