چرخے سے چکر تک،ترنگے کی کہانی

Published On: 15 August, 2026 01:46 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
چرخے سے  چکر تک،ترنگے کی کہانی

(فوٹورائٹرز)

چوبیس تیلیوں پر مشتمل نیلے رنگ کا چکر قومی پرچم کی ایک اہم علامت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قومی پرچم کے لیے اشوک چکر ہی کا انتخاب کیوں کیا گیا اور اسے مہاتما گاندھی کے چرخے کی جگہ کب شامل کیا گیا؟

 ہندوستان نے آزادی کے بعد 1947 میں ترنگے کو قومی پرچم کے طورپراختیارکیا تواس کے سفید حصے کے وسط میں اشوک چکر کو جگہ دی گئی۔ اس سے قبل قومی پرچم کے مختلف ڈیزائنز میں مہاتما گاندھی کا چرخا شامل تھا، جو خود انحصاری اور آزادی کی تحریک کی علامت مانا جاتا تھا۔

اشوک چکر کی تاریخ بدھ مت کی تعلیمات سے جڑی ہوئی ہے۔ روایت کے مطابق گوتم بدھ نے بودھ گیا میں علم حاصل کرنے کے بعد سارناتھ کا رخ کیا، جہاں انہوں نے اپنے سابق پانچ ساتھیوں کو پہلی بار اپنی تعلیمات سے آگاہ کیا۔ بدھ کی ان پہلی تعلیمات کو دھرم چکر کہا جاتا ہے۔

دھرم چکر بدھ کی تعلیمات اور نیکی کی راہ کی علامت بن گیا۔صدیوں بعد موریہ سلطنت کے فرمانروا اشوک  بدھ مت کی تعلیمات سے متاثر ہوئے اور انہوں نے چکر کی علامت کو اپنے ستونوں اور سلطنت کے مختلف حصوں میں نمایاں کیا۔ قومی پرچم میں اشوک چکر کیسے شامل ہوا؟

1947 میں بھارت کی آزادی کے موقع پر دستور ساز اسمبلی قومی پرچم کے حتمی ڈیزائن پر غور کر رہی تھی۔  اس وقت پرچم میں موجود چرخے کو تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آئی، کیونکہ چرخے کی ساخت پرچم کے دونوں جانب یکساں انداز میں دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اس کے متبادل کے طور پر اشوک چکر کو شامل کرنے کی تجویز منظور کرلی گئی اور یوں چرخے کی جگہ 24 تیلیوں والا اشوک چکر ہندوستانی قومی پرچم کا حصہ بن گیا۔

 اشوک چکر کی 24 تیلیاں کیا ظاہر کرتی ہیں؟
اشوک چکر میں موجود 24 تیلیاں اس علامت کو مزید معنویت عطا کرتی ہیں۔ ان سے مختلف انسانی اور اخلاقی اقدار منسوب کی جاتی ہیں، جن میں امید، محبت، حوصلہ، صبر، امن، نیکی، وفاداری، نرمی اور مہربانی شامل ہیں۔ یہ چکر بے غرضی، ضبطِ نفس اور ایثار کے ساتھ ساتھ سچائی، انصاف اور رحم کی اہمیت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے۔
اس کے علاوہ عاجزی، ہمدردی، علم، دانائی، اخلاقیات اور دوسروں کی بھلائی جیسے تصورات بھی اشوک چکر کے وسیع تر پیغام کا حصہ مانے جاتے ہیں۔

 اشوک چکر کا بنیادی پیغام کیا ہے؟
اشوک چکر کا سب سے نمایاں پیغام حرکت اور پیش رفت ہے۔ ایک پہیہ مسلسل گردش کرتا ہے، اس لیے یہ تصور پیش کرتا ہے کہ فرد، معاشرہ اور قوم کو جمود کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ مسلسل آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔
قومی پرچم کے مرکز میں اس چکر کی موجودگی اس بات کی علامت بھی ہے کہ آزادی صرف ایک تاریخی کامیابی نہیں بلکہ مسلسل ذمہ داری، ترقی، انصاف اور بہتر مستقبل کی جانب سفر کا نام ہے۔

یوں ترنگے میں اشوک چکر محض ایک ڈیزائن یا تاریخی نشان نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کے تصور کی نمائندگی کرتا ہے جو حرکت، ترقی، اخلاقی اقدار اور انصاف کے راستے پر آگے بڑھتا رہے۔