(فوٹو اے این آئی)
لال قلعے کی فصیل سے اپنے خطاب میں پرائم منسٹرنریندرمودی نے 2047 تک وِکسِت بھارت کا ہدف، دفاعی پیداوار میں خود انحصاری، نوجوانوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ اور ’نکسل ذہنیت‘ کے خلاف کارروائی پر زوردیا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے آج (ہفتے) ملک کے 80 ویں یوم آزادی کے موقع پر تاریخی لال قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے 2047 تک بھارت کو ِوکسِت بھارت بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ترنگا لہرانے کے بعد اپنے تقریباً 75 منٹ طویل خطاب میں وزیراعظم نے خود انحصاری، دفاعی طاقت، ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت، نوجوانوں اور سبز معیشت سمیت مختلف شعبوں کو ملک کی ترقی کا محرک قرار دیا۔
انھوں نے ملک کی ترقی کے لیے کچھ اہم شعبوں پرخصوصی توجہ دینے پر بھی زور دیا، جن میں مینوفیکچرنگ، توانائی، زراعت و فوڈ پروسیسنگ، ٹیکنالوجی و جدت، گتی شکتی، دفاعی طاقت، گرین و بلیو اکانومی اور سافٹ پاور شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں تیزی سے پیش رفت ہندوستان کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
دفاعی شعبے میں خود انحصاری پر زور
وزیراعظم مودی نے ملک میں مضبوط اور متحرک سول ڈیفنس انفرااسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو دفاعی سازوسامان کی تیاری کا عالمی مرکز بننا چاہیے۔انہوں نے جدید دفاعی صلاحیتوں میں خود انحصاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہائپرسونک ٹیکنالوجی اور ڈرون سسٹمز جیسے شعبوں میں ملکی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق دفاعی شعبے میں خود کفالت نہ صرف قومی سلامتی بلکہ ہندوستان کی عالمی حیثیت کے لیے بھی اہم ہے۔
ملک گیر ٹیلنٹ ہنٹ کا اعلان
نریندر مودی نے کہا کہ ملک کی ترقی کے سفر میں نوجوان نسل کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے 5 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کی صلاحیتیں تلاش کرنے اور انہیں 2036 کے اولمپکس کے لیے تیار کرنے کے مقصد سے ملک گیر ٹیلنٹ ہنٹ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔
وزیراعظم کے مطابق کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں کم عمری سے ہی باصلاحیت بچوں کی شناخت اور تربیت بھارت کو مستقبل میں عالمی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
2047 تک وِکسِت بھارت کا عزم
اپنے خطاب میں وزیراعظم مودی نے اعتماد ظاہر کیا کہ جب ہندوستان 2047 میں 100واں جشن آزادی منائے گا تو ملک ’وِکسِت بھارت‘ کے ہدف کو حاصل کرچکا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ ہدف ملک کے 140 کروڑ عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اسے حاصل کرنا دنیا کے سامنے بھارت کے عزم اور صلاحیت کا ثبوت ہوگا۔
انھوں نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران غربت میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں افراد نے ملک کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کے ساتھ کام کیا ہے اور ان کوششوں کے نتیجے میں 25 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے باہر نکالا گیا ہے۔
ووکل فارلوکل اورسودیشی پر زور
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں آتم نربھرتا یعنی خود انحصاری کو مرکزی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو دوسروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے ملک میں تیار ہونے والی اشیا کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے ’سودیشی‘، خود انحصاری اورووکل فار لوکل کو قومی عزم بنانے کی اپیل کی۔
پی ایم مودی کا کہنا ہے کہ بھارت میں بہت کچھ تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اس لیے ملکی پیداوار کو بہتر بنانے، اس کی حفاظت کرنے اور مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
دماغی نکسل کے خلاف بھی سخت پیغام
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں دماغی نکسل(نکسل ذہنیت) پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ برسوں تک ماؤ نواز نظریے سے وابستہ افراد اقتدار کے ایوانوں میں موجود رہے اور حکومتی پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگلات میں مسلح نکسل عناصر کے خلاف کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، تاہم ان کے مطابق دماغی نکسل اب بھی معاشرے میں موجود ہے اور اسے تلاش کرکے الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے۔
اسکولی بچوں سے ملاقات
خطاب کے بعد لال قلعے میں ایک جذباتی منظر بھی دیکھنے میں آیا، جب سفید، سبز اور زعفرانی لباس پہنے اسکولی بچے وزیراعظم کی جانب بڑھے۔
مودی نے بچوں کو روک کر ان سے ملاقات کی، متعدد بچوں سے ہاتھ ملایا اور ان سے مختصر گفتگو کی۔ یہ ملاقات یومِ آزادی کی مرکزی تقریب کے اختتام پر توجہ کا مرکز بن گئی۔
گزشتہ برس کے مقابلے میں مختصر خطاب
وزیراعظم نریندر مودی نے اس سال یوم آزادی پر تقریباً 75 منٹ خطاب کیا، جو گزشتہ چار برسوں میں ان کی سب سے مختصر یومِ آزادی تقریر ہے اور مجموعی طور پر ان کی چوتھی مختصر ترین تقریر قرار دی گئی ہے۔
گزشتہ سال 2025 میں 79ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم نے 103 منٹ طویل خطاب کیا تھا جبکہ 2024 میں 78ویں یوم آزادی پر ان کی تقریر 98 منٹ جاری رہی تھی۔
مودی کی 2024 سے قبل سب سے طویل یوم آزادی تقریر 2016 میں ہوئی تھی، جو تقریباً 96 منٹ پر مشتمل تھی، جبکہ ان کی اب تک کی مختصر ترین تقریر 2017 میں ہوئی، جب انہوں نے 56 منٹ قوم سے خطاب کیا تھا۔





