سونم وانگچک (فائل فوٹورائٹرز)
تعلیمی شعبے میں لداخ کے ماہر تعلیم سونم وانگچک کی سوچ اور پہل کا اعتراف پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی نے کیا ہے۔ کمیٹی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ پیش کی ۔
تعلیمی شعبے میں سونم وانگجگ کی اختراعی کاوشیں تعارف کی محتاج نہیں۔ لداخ کے ماہر تعلیم جہدکار سونم وانگچک پر ستمبر میں احتجاج کے دوران تشدد کو ہوا دینے کے الزامات
ہیں۔ انھیں این ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار لداخ کے ماہرتعلیم اور ماہرماحولیات سونم وانگچک کے تعلیمی شعبےمیں اختراعی سوچ اور اسے عملی جامہ پہنانے کا معترف پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی بھی ہے ۔
سونم وانگچک کے تعلیمی ادارے کے تعلق سے کمیٹی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ پیش کی ۔ کانگریس رکن پارلیمان دگ وجے کی سربراہی والی اس پارلیمانی کمیٹی نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن(UGC) میں ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف الٹرنیٹوز(HIAL )کو مسلمہ حیثیت دیئے جانے سے متعلق معاملے کے التواء میں پڑے ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ۔
اس 30 رکنی کمیٹی نے وزارت تعلیم سے HIAL کے تعلیمی ماڈل کا گہرائی مطالعہ کرنے کی سفارش بھی کی ہے اور اگر ضروری ہو تو اسے ملک کے دیگر حصوں میں تعلیمی اختراعی مراکز یا دیگر اقدامات کے ذریعے نافذ کرنے پر غور کرے۔ اتنا ہی نہیں ، کمیٹی نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف الٹرنیٹوزکو تسلیم کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ کمیٹی نے ادارے کے کام کو مثالی قراردیا ہے ۔
لداخ دورے کے دوران، پارلیمانی کمیٹیHIAL کے مجموعی تعلیمی ماڈل سے متاثر ہوئی۔ادارے کے تعلیم،تحقیق اور انٹرپرینیورشپ کے نظام کا مثبت اثرکمیٹی پرہوا۔
رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ HIAL نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے مقاصد (جیسے پروجیکٹ پر مبنی سیکھنے، کمیونٹی کی شرکت، اور ہندوستانی روایات) کو مؤثر طریقے سے مجسم کرتا ہے۔
واضح رہے کہ ، سونم وانگچک کواین ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ۔ ستمبرکے مہینے میں لداخ کو ریاستی درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کی مانگ کو لے لداخ میں احتجاج کیا گیا تھا۔ بعد میں اس احتجاج نے پُرتشدد روپ اختیار کرلیا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔اس دوران ، مشتعل ہجوم نے بی جے پی کے دفتر کوپھونک دیا تھا۔




