(فوٹورائٹرز)
لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں ایک تین منزلہ عمارت کی بالائی منزل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری منزل شعلہ پوش ہوگئی۔ دھویں کےسبب اندر پھنسے لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا رہا اور ان کی حالت غیر ہوگئی۔
لکھنؤ میں ایک المناک حادثہ پیش آیا۔ تین منزلہ عمارت میں لگی آگ کے نتیجے میں کم سے کم 15 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔
آگ تیزی سے پھیلنے کے باعث کئی لوگ اندر پھنس گئے جب کہ جان بچانے کی کوشش میں بعض کو پہلی منزل سے چھلانگ لگاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ عمارت میں چلنے والے کوچنگ سینٹرمیں نمودار ہوئی ۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائربریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ریسکیو آپریشن شروع کیاگیا ۔
فائربریگیڈ کی 14 گاڑیاں تعینات کی گئی تھیں ۔ مشقت کے بعد آگ پر بالآخر قابو پا لیا گیا۔این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچیں اور راحت و بچاؤ کے آپریشن میں شامل ہوئیں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، کوچنگ سینٹرمیں اس وقت 21 طلبہ موجود تھے ۔
صدرجمہوریہ دروپدی مرمو،وزیراعظم نریندرمودی،وزیرداخلہ امت شاہ،وزیردفاع راجناتھ سنگھ اور ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حادثے میں ہوئے جانی نقصان پرگہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعظم نےمہلوکین کے لواحقین کو2-2لاکھ روپے ایکس گریشا اور زخمیوں کو50-50روپے مالی مدد دینے کااعلان کیا ہے۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے علی گنج آتشزدگی سانحے کی تحقیقات کے لیے دو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دے دی ہے۔
ایس آئی ٹی ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے سیاحت، ثقافت اور مذہبی امور امرت ابھیجات اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، لکھنؤ زون پروین کمار پر مشتمل ہے۔ایس آئی ٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ سات دن کے اندر حکومت کو پیش کرے۔
واضح رہے کہ 3 جون کو قومی راجدھانی دہلی کے الویہ نگر علاقے میں ایک ہوٹل میں آگ لگی تھی جس میں 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔




