جلدامریکہ جانے کی راہ مسدود(فوٹو رائٹر)
US Short Notice Visa:شارٹ نوٹس ویزا پرامریکہ جانے کی راہ مسدود ہوگئی ہے۔ امریکہ نے ہندوستانی مسافروں کے لیے شارٹ نوٹس ویزا اجرا کرنا بند کردیا ہے۔اب کوئی بھی ہندوستانی تیسرے ملک میں جا کرعاجلانہ اپوائنمنٹ نہیں لے سکے گا۔
ہند۔امریکہ کے بیچ رشتوں میں تلخی درآئی ہے۔ سیاسی اورسفارتی سطح یہ عیاں ہے۔ اس بیچ،امریکہ نے ہندوستانی مسافروں کے لیے ویزا قوانین سخت کر دیئے ہیں ۔ اب کوئی بھی ہندوستانی شہری یا طالب علم کسی تیسرے ملک میں جا کر ویزا انٹرویو کے لیے وقت (سلاٹ )حاصل نہیں کر سکے گا ۔ اس سے وہ لوگ راست طورپر متاثر ہوں گے جو شارٹ نوٹس ویزا کا سہارا لے کر جلد امریکہ پہنچ جاتے تھے۔
شارٹ نوٹس ویزا کیا ہے؟
شارٹ نوٹس ویزا ایک الگ ویزا کیٹیگری نہیں ہے بلکہ یہ جلدملنے والا انٹرویوسلاٹ ہوتا ہے۔ ہندوستان میں اکثر امریکی ویزا کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات انتظار کی مدت 6 سے 9 ماہ طویل ہوتی ہے۔ ایسے میں ہندوستانی مسافر یا طلباء انٹرویو دینے کے لیے دوسرے ممالک جیسے سنگاپور، تھائی لینڈ، جرمنی یا دبئی جاتے تھے کیونکہ وہاں پر سلاٹ جلدی مل جاتے تھے۔ اس طرح انہیں چند ہفتوں میں ویزا مل جاتا تھا ۔ یہ عمل عام طور پرشارٹ نوٹس ویزا کے نام سے جانا جاتا تھا ۔
شارٹ نوٹس ویزا کا شارٹ کٹ کیوں کیا گیا بند؟
امریکہ نے اب واضح کردیا ہے کہ ویزا انٹرویو صرف اس ملک میں لیا جائے گا جہاں درخواست گزار کے پاس شہریت یا قانونی رہائش ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو اب صرف ہندوستان میں ہی ویزاانٹرویوکے لیے سلاٹ لینا ہوگا ۔ اس فیصلے سے شارٹ نوٹس ویزا کا راستہ بند ہو گیا ہے ۔
اثرکس پر پڑے گا؟
نئے ضابطے کا سب سے زیادہ اثر طلباء پر پڑے گا، جنہیں وقت پر کلاسز میں شامل ہونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے کاروباری، جنہیں اچانک میٹنگ یا کانفرنس کے لیے امریکہ جانا پڑتا ہے ، اب انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ لوگ جو فیملی ایمرجنسی یا طبی وجوہات کی بنا پر فوری طور پر سفر کرنا چاہتے ہیں انہیں بھی اب صبرآزما انتظار کرنا پڑے گا ۔
اب متبادل کیا ہے؟
جو لوگ فوری طور پر امریکہ جانا چاہتے ہیں ان کے پاس اب صرف ایک آپشن بچا ہے ۔ امریکی سفارت خانے یا قونصلیٹ میں’عاجلانہ وقت‘طلب کرنے کے لیے درخواست دینا ہوگا۔ حالانکہ یہ انتہائی محدود حالات،جیسے طبی ہنگامی حالات، خاندانی بحران یا بعض قسم کے کاروباری معاملات میں دیا جاتا ہے۔




