نیپال میں تشدد کا دور(فوٹو رائٹرز)
Nepal PM KP Sharma Oli Resigns : نیپال میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کے پی اولی شرما نے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ بڑے پیمانے پرتشدد،توڑپھوڑ،پتھراؤ اور آگ زنی کے واقعات رونما ہورہے ہیں ۔ احتجاجیوں نے آئینی عہدوں پر فائزِشخصیات کی رہائش گاہوں اور پارلیمنٹ کو بھی پھونک ڈالا ہے۔
نیپال میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ جنریشن زیڈ کے احتجاج نے وزیراعظم کے پی شرما اولی کو عہدے سے استعفی دینے پر مجبورکردیا۔ تاہم ان کے مستعفی ہوجانے کے بعد بھی تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ اولی نے اپنے استعفے میں ملک کی غیر معمولی صورتحال اور آئینی و سیاسی حل کو ممکن بنانے کے لیے عہدے سے استعفی دینے کا ذکر کیا ہے۔ انتظامیہ نے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کا استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے ۔ انتظامیہ اور فوج نے تشدد کے دوران ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور تمام شہریوں سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ، وزیراعظم اولی کی کابینہ کے 4 وزرا پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے۔ آر ایس پی کے 21 ارکان پارلیمان احتجاج کی حمایت میں استعفی دے چکے ہیں۔
سیاسی پس منظر
وزراعظم اولی نے 15 جولائی 2024 کو چوتھی مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس سے قبل ، اولی 2015-2016، 2018-2021 میں بھی وزیر اعظم رہ چکے ہیں ۔انھوں نے 275 رکنی ایوان نمائندگان میں 166 ارکان کی حمایت حاصل کی تھی جس میں نیپالی کانگریس کے 88 اور یو ایم ایل کے 78 ارکان شامل تھے۔ حکومت سازی کے لیے 138 ارکان کی حمایت ضرورت تھی۔ اپنی مدت کارکے دوران اولی نے بھارت کے ساتھ روایتی قریبی تعلقات کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط بنانے کی پالیسی اختیارکی ۔
بے لگام احتجاجی
سوشل میڈیا پر عائد پابندی کے خلاف شروع ہوا احتجاج اتنی شدت اختیار کرے گا اس کا اندازہ شائد وزیراعظم اولی کو نہیں تھا حالانکہ حکومت نے پُرتشدد احتجاج کے بعد،اپنا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کیا تھامگر اس فیصلے کے باوجود احتجاجی مطمئین نہیں ہوئے ۔ احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ احتجاج ابتدائی دنوں میںتو سوشل میڈیا ایشو بنا رہا لیکن پابندی ہٹنے کے بعدپوری توجہ کے پی کے اولی کی حکومت کا تختہ الٹنے پر مرکوز ہوگئی۔ ۔ احتجاجیوں نے کئی سرکاری عمارتوں کو پھونک ڈالا۔ ان میں وزیر اعظم کا دفتر سنگھا دربار، وفاقی پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، خصوصی عدالت، اٹارنی جنرل آفس اور اعلیٰ سیاسی لیڈروں کے گھر اور دفاتر شامل ہیں۔
پروازیں معطل
صورتحال یہ ہے کہ نیپال کے کئی علاقوں میں جنریشن زیڈ کے نوجوان ہاتھوں میں پتھر اور لاٹھیاں لیے گھوم رہے ہیں۔ پولیس کو ان پر قابو پانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ کھٹمنڈو کی سڑکوں پر بغاوت کی آگ اس طرح جل رہی ہے کہ ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام ملکی اور بین الاقوامی پروازیں معطل کردی گئیں ۔ نیپال کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا ہے اور گھریلو ہوائی اڈوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔




