البانیہ میں دنیا کی پہلی اے آئی منسٹرمقررہ(فوٹوانسٹاگرام)
آرٹی فیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کا دخل حکومتی امورمیں بھی ہوگیا ہے۔ البانیہ دنیا کا پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے ’ اے آئی وزیر‘مقررکیا ہے۔اے آئی وزیرکانام ڈییلا ہے جس کے معنی البانی زبانی میں’سورج‘ کے ہیں۔
آرٹی فیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کا دخل حکومتی امورمیں بھی ہوگیا ہے۔ البانیہ دنیا کا پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے ’ اے آئی وزیر‘مقررکیا ہے۔اے آئی وزیرکانام ڈییلا ہے جس کے معنی البانی زبانی میں’سورج‘ کے ہیں۔
البانیہ کے وزیر ایڈی راما کے مطابق ،اے آئی وزیر کوعوامی ٹینڈرکی نگرانی سونپی گئی ہے تاکہ بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔ البانیہ کے اقدام کو جُرأتمندانہ اورروایت شکن بتایا جارہا ہے۔ ڈییلا کی تقرری کو البانیہ کی حکومتی امور میں ٹیکنالوجی کے فعال کردار کے نقطہ آغازکے طوردیکھا اورسراہا جارہاہے۔
وزیراعظم راما کا کہنا ہے کہ ، ڈییلا پہلا ایسا رکن ہے جو جسمانی طور پر موجود نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہے۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی ہے کہ ڈییلا تمام عوامی ٹینڈرز کی نگرانی اور فیصلے خوش اسلوبی سے انجام دیں گی۔ان کی تقرری سے ٹینڈرکاعمل صد فیصد بدعنوانی سے پاک رہے گا اور ہر عوامی فنڈ شفاف ہو گی۔
البانیہ کے وزیراعظم ایڈی راما نے مختلف وزارتوں سے یہ ذمہ داری مرحلے وار ؎ور پر اے آئی منسٹرکے سپرد کرنے کی بات کہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ، ہر ٹینڈر میں تمام عوامی اخراجات مکمل شفاف ہوں گے۔ حکومت کی طرف سے پرائیویٹ کمپنیوں کے ٹینڈرز کا غیر جانبدارانہ جائزہ ،رشوت، دھمکیاں اور مفاد پرستی جیسے مسائل ختم ہوں۔
خیال رہے کہ، دییلا کو جنوری 2025 میں بطور ڈیجیٹل اسسٹنٹ لانچ کیا گیا تھا، یہ ایک خاتون کے روپ میں ورچوئل نمائندگی رکھتی ہیں جو البانیہ کے روایتی لباس میں ملبوس ہوتی ہیں۔
ڈییلا صارفین کو صوتی احکامات کے ذریعے 95 فیصد سرکاری خدمات تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔ یہ اقدام صرف آلے یا ٹول کے طور پر نہیں بلکہ حکومت میں فعال شریک کار کے طور پر مصنوعی ذہانت کومتعارف کراتا ہے۔
البانیہ کا یہ عمل تکنیک کوحکومتی امور میں شامل کرنے والا ہے۔تاہم اس کی نکتہ چینی بھی ہورہی ہے۔ ایک فیس بک صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ڈییلا بھی بدعنوانی ہوجائے گی۔
البانیہ میں عوامی ٹینڈر طویل عرصے سے بدعنوانی اورگھوٹالے کا شکاررہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ، ملک، بین الاقوامی گینگز کے لیے بھی بدنام ہے جو منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والےکالے دھن کو سفید کرتے ہیں۔ وزیراعظم ایڈی راما ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ وہ چوتھی بار وزارت عظمی کے عہدے پرفائز ہوئے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں انھیں کامیابی حاصل ہوئی۔ ایڈی راما جلد ہی اپنی کابینہ تشکیل دیں گے۔
ان کا مقصد البانیہ میں عوامی انتظامیہ میں بدعنوانی کا خاتمہ اور ملک کو 2030 تک یورپی یونین میں شامل کرانا ہے۔ وہ یہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں اس بارے میں نتائج اخذ کرنا قبل ازوقت ہوگا ۔ اتنا ضرور ہے کہ ایڈی رامام تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکربدعنوانی سے مقابلہ کرنے کی نیت کھتے ہیں۔ چنے ہوئے عوامی نمائندے بدعنوانی کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اب مصنوعی ذہانت کو ’انسان کی پیداکردہ بدعنوانی‘ کوختم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حکمرانی اورٹکنالوجی کا یہ پہلابڑا سنگم ہے۔بلاشبہ ایک نئی مثال اور ایک نئی پہل ہے۔اس ملاپ کے نتائج کا سب کو انتظار رہے گا۔




