صدسالہ جازیہ کی زندگی جنگ نے عذاب بنا دی (فوٹو انروا انسٹا گرام)
اسرائیل نے غزہ شہر پر زمینی حملوں کو تیزکردیا ہے۔ غزہ شہر کھنڈر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اسرائیلی حملوں نے سب سے زیادہ آبا د غزہ شہر سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو جنم دیا ہے جس پر دنیا بھر سے مذمت کی جا رہی ہے۔ معمر خاتون جازیہ ایک بار پھر جبراً نقل مکانی کو مجبوری ہوئی ہیں ۔
اسرائیل غزہ میں مسلسل فضائی اور زمینی حملے کررہا ہے۔ غزہ پٹی اور غزہ شہر میں اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے۔ اسرائیلی بمباری اور بری فوج کے حملوں کے نشانے پر انسان کے ساتھ ساتھ عمارتیں،طبی مراکز ، تعلیمی ادارے اور دیگر تنصیابات ہیں ۔ بڑے پیمانے پرفلسطینی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔
اس بیچ ، اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی (UNRWA) نے بدھ کو بتایا کہ غزہ کی 100 سال سے زائد عمر کی خاتون جازیہ کو جبراً جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ۔ ایجنسی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ جازیہ کی خواہش ہے کہ ان کے پوتے سکون اور سلامتی سے زندگی گزار سکیں کیونکہ ان کی زندگی جبری نقل مکانی کے عذاب میں گزری ہے۔
حازیہ نے مزید بتایا کہ ان کی زندگی جنگوں میں گزاری ہے اوران کی وہیل چیئر کو دھکیلنے والے نوجوان ایسے خوفناک مناظر دیکھ چکے ہیں جن کا تصور بھی ممکن نہیں۔
اسی دوران غزہ کی ہلال احمر سوسائٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ ،اسرائیل نے غزہ شہر پر زمینی حملوں کو تیزکردیا ہے۔ مسلسل جنگ نے پورے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کردیا ہے۔ اسرائیلی حملوں نے سب سے زیادہ آباد غزہ شہر سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو جنم دیا ہے جس پر دنیا بھر سے مذمت کی جا رہی ہے۔




