راہل گاندھی ۔ تیجسوی یادو (فوٹو انسٹا گرام)
عظیم اتحاد میں سیٹوں کے بٹوارے پر اختلافات ہیں جو اب کھل کرسامنے آگئے ہیں ۔ کئی سٹیوں پر مقابلہ اب حریف کے ساتھ ساتھ دوستوں کے بیچ بھی ہوگا۔
بہار میں عظیم اتحاد میں اتفاق نہیں ہے۔ سیٹوں کے بٹوارے پر پینچ پھنسا ہوا ہے۔ نتیجتاً تقریباً ایک درجن سیٹوں پر دوستانہ مقابلے کی صورت پیدا ہوگئی ہے۔ کئی سیٹوں پرعظیم اتحاد میں شامل جماعتوں کے اُمیدوار ہی زورآزمائی کررہے ہیں ۔ یعنی ایسی صورت میں این ڈی اے کو فائدہ پہنچنا طئے ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ، 5 سیٹوں پر کانگریس اور آر جے ڈی کے بیچ مقابلہ ہے، جب کہ 4 سیٹوں پر کانگریس اور سی پی آئی آمنے سامنے ہیں ۔ کچھ حلقوں پر آر جے ڈی اور وی آئی پی دونوں کے اُمیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیے ہیں۔ حتی کہ ، انڈیا انکلوسیو پارٹی (IIP)نے ایک سیٹ پر کانگریس کے خلاف امیدوار کھڑا کیا ہے۔ یہ پارٹی، اتحاد میں کی سب سے چھوٹی اور نئی رکن ہے۔
عظیم اتحاد میں سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے، کانگریس نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی سابقہ جیتی ہوئی دو نشستیں قربان کر دی ہیں۔ پارٹی نے اپنی جیتی ہوئی دو سیٹیں اتحادیوں کے لیے چھوڑی ہیں۔ ان میں مہاراج گنج کی سیٹ آر جے ڈی جبکہ جمال پور سیٹ آئی آئی پی کے لیے کانگریس نے چھوڑ دی ہے۔
کن سیٹوں پر دوستانہ مقابلہ ؟
کانگریس نے اب تک 60 سیٹوں پر اُمیدوار کا اعلان کیا ہے، جن میں سے 10 سیٹوں پر اس کے اتحادیوں کے امیدوار بھی لڑ رہے ہیں۔
کانگریس بمقابلہ آر جے ڈی (5 سیٹیں): ویشالی، لال گنج، کہلگاؤں، سلطان گنج، نرکتیا گنج
کانگریس بمقابلہ سی پی آئی (4 نشستیں): بچھواڑا، راجاپاکڑ، بہار شریف، کرہگر
کانگریس بمقابلہ IIP (1 سیٹ): بیلدور
انتخابات میں دوستانہ مقابلے کوئی نئی بات نہیں لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جن سیٹوں پر دوستانہ مقابلہ ہوا ان میں بیشتر سیٹوں پر جیت پچھلی بار این ڈی اے کی ہوئی تھی ۔ کانگریس نے کم فرق سے دو سیٹیں جیتی تھیں۔ باالفاظ دیگر، کانگریس کو دوستانہ مقابلے کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔




