کیرل میں حجاب پر ہنگامہ(فوٹو فائل گلف نیوز)
کوچی کے ایک اسکول میں حجاب پہن کرایک طالبہ کو کلاس کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس پروبال ہوا۔محکمہ تعلیم نے مداخلت کرتے ہوئے طالبہ کو حجاب پہننے کی اجازت دے دی مگر اس معاملے پر بیان بازیوں سے ماحول گرما رہا ہے ۔
حجاب بے حجابانہ سیاست ہورہی ہے ۔ وقفے وقفے اس طرح کے معاملات روشنی میں آتے ہیں ۔اسی نوعیت کا ایک معاملہ اترپردیش انتخابات سے قبل کرناٹک سے آیا تھا اب بہار میں اسمبلی انتخابات ہونے کو ہیں تو حجاب سے جڑا ایک معاملہ کیرل سے منظرعام پر آیا ہے ۔ تازہ معاملہ کیرل کے کوچی کا ہے ۔ یہاں سینٹ ریٹا پبلک اسکول میں باحجاب طالبہ کوکلاس کرنے سے روکا گیا جس پروبال ہوگیا۔
8ویں کلاس کی ایک طالبہ کو حجاب پہننے سے رو کے جانےکے بعد اب مزید تین طالبات اسکول چھوڑ چکی ہیں ۔ یہ اسکول لیٹن کیتھولک چرچ کے زیر انتظام ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نےاسے طالبات کے تعلیم کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جب کہ سی پی آئی سنگھ پریوار پر سماج کو بانٹنےکا الزام لگایاہے ۔ بہرحال اس معاملے میں محکمہ تعلیم نے مداخلت کی ہے اور تحقیقات کے بعد محکمےاسکول کو ہدایت کی ہے کہ طالبہ کو حجاب پہننے کی اجازت دی جائے۔
یہ تنازع 10 اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا جب 8 ویں جماعت کی ایک طالبہ نے اپنے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہنا۔ پرنسپل نے ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے کلاس میں طالبہ کے داخلے پر روک لگادی۔ طالبہ کے والد نے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کے شکایت کے ازالے کے فورم میں شکایت درج کرائی۔ ڈپٹی ڈائرکٹر آف ایجوکیشن (DDE) سُبِن پال کی قیادت میں ایک تحقیقاتی ٹیم نے اسکول کا دورہ کیا اور پرنسپل سمیت عہدیداروں کے بیانات ریکارڈ کئے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ اسکول نے طالبہ کے تعلیم کے حق (RTE ایکٹ) کی خلاف ورزی کی ہے۔
وزیر تعلیم وی سیون کُٹی نے فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننا طالبہ کا مذہبی حق ہے۔
اسکول کو ڈیزائن اور رنگ پر فیصلہ کرنے کا اختیار ہےلیکن طالبہ کو کلاس سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اسے آئینی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اسکول کا موقف
اسکول کی پرنسپل سسٹرہیلینا البی کا کہنا ہے کہ ، ہم نے طالبہ کو کلاس کرنے سے نہیں روکا بلکہ اس کے والد سے بات کی، معاملہ حل ہو گیا۔ انتظامیہ نے کیرل ہائی کورٹ کے 2018 کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں مذہبی علامتوں پر یونیفارم کے اُصولوں کو ترجیح دی گئی تھی۔پرنسپل نے پولیس میں شکایت درج کرائی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ طالبہ کے والد، دیگر چھ لوگوں کے ساتھ، ہنگامہ کرنے کے لیے اسکول میں آئے تھے۔ 13 اکتوبر کو ہائی کورٹ نے پولیس کو اسکول کیمپس میں امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔
شکایت درشکایت
جمعہ کے روز، دو دیگر طالبات کے والدین نے ٹرانسفر سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی۔ ان کی والدہ جیسنا ایس فردوس نے اتوار کو فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پرنسپل اور پی ٹی اے کے صدر نے حجاب پہننے والی لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کی۔ اسکول انتظامیہ دوسرے مذاہب کے خلاف تعصب کو ہوا دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہے۔ جیسنا نے اپنے بچوں کو آور لیڈیز کانونٹ اسکول میں داخل کرایا۔
سی پی آئی ایرناکولم ضلع سکریٹری ایم ارون نے الزام لگایا کہ یہ تنازع سنگھ پریوار کی سازش ہے۔ ادھر، بی جے پی کے سابق ریاستی صدر کے سریندرن نے جواب دیا کہ کمیونسٹوں اور کانگریس کے ذریعہ پرورش پانے والے انتہا پسند کیرل میں آمریت کررہے ہیں۔




