پونے میں نمازادا کرنے پروبال (فوٹو انسٹاگرام)
پونے کے شنیوارواڑا میں نماز ادا کرنے کے معاملے پرسیاسی زورآزامائی ہورہی ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے پربی جے پی اوراس کی حامی تنظموں نے احتجاج کیا۔ مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے اس معاملے پرمہایوتی میں اختلافات ابھر کرسامنے آگئے ہیں ۔
پونے کے شنی وار واڑہ میں نمازادا کرنے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تین نامعلوم خواتین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تاحال اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں ہورہی ہے ۔ پونے کا تاریخی شنی وار واڑا ایک محفوظ یادگار ہے اور یہاں کسی قسم کے مذہبی اجتماع یا عبادت پر امتناع ہے۔
اس معاملے پر حکمراں اتحاد کے اندر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP)جیت پوار گروپ نے پولیس کوتنقید کا نشانہ بنایا ہےاورمعاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام لگایا ہے۔
یہ واقعہ سنیچر کی دوپہرکا ہے ۔ تین خواتین شنی وار واڈا قلعہ کے صحن میں داخل ہوئیں اورانھوں نے نماز ادا کی۔ اتوار کواس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ بی جے پی اور مقامی ہندو تنظیمیں احتجاج میں سڑکوں پر اترآئیں ۔
بی جے پی رکن پارلیمان میدھا کلکرنی اور مقامی ہندو تنظیموں نے شنی وار واڑا پہنچ کر شدھی کرن کیا۔انھوں نے اسے پونے کے باشندوں کے لیے تشویش کا باعث قراردیا۔
مہاراشٹر حکومت کے وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے بھی س واقعے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ شنی وار واڑاہماری بہادری کی علامت ہے، یہ ہندو سماج کے لیے عقیدہ کا مرکز ہے، اگر شنی وار واڈا میں نماز ادا کی جا سکتی ہے تو کیا حاجی علی درگاہ پر ہنومان چالیسہ کا پاٹھ قابل قبول ہوگا؟ کیا اس سے کسی کے جذبات مجروح نہیں ہوں گے؟انھوں نے کے مقررکردہ مقامات پرہی پوجا پاٹھ ہوناچاہتے۔
اجیت پواردھڑے کا الزام
اجیت پوار کی پارٹی نے بی جے پی اور اس کی حامی تنظیموں پر ماحول بگاڑنے کا الزام لگایا ہے۔ این سی پی اجیت پوار دھڑے کی ترجمان روپالی پاٹل تھومبرے کا کہنا ہے کہ میدھا کلکرنی نے اس معاملے کو ’
ہندو بمقابلہ مسلم‘میں تبدیل کرکے پونے کی پرامن فضا کوبگاڑنے کی کوشش کی۔ پولیس کو ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنا چاہیے۔
اے آئی ایم آئی ایم لیڈر وارث پٹھان نے کہا کہ تین یا چار مسلم خواتین نے چند منٹوں کے لیے جمعہ کی نماز ادا کی، اس میں کیا حرج ہے؟ ہم کبھی بھی ٹرین یا ہوائی اڈے پر گربا کرنے والے کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ ہندوستانی آئین ہر مذہب کو عبادت کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ بی جے پی نفرت پھیلا رہی ہے، انہیں اپنے ذہنوں کو پاک کرنے کی ضرورت ہے، یادگار کونہیں۔
سکیورٹی سخت
پونے سٹی پولیس نے کہا کہ اے ایس آئی افسر کی شکایت پر تین نامعلوم خواتین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تاہم تفتیش جاری ہے۔
پولیس نے کہاکہ شنی وار واڑا اے ایس آئی کی محفوظ یادگار ہے۔ کسی بھی مذہبی عبادت یا تقریبات کی اجازت نہیں ہے۔ ہم اے ایس آئی کی ہدایات کے مطابق کام کریں گے اور قلعہ کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔ یادگار کی حدود میں کسی مذہبی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔




