جموں کشمیر اسمبلی (فائل فوٹو اے این آئی)
جموں اسمبلی کا اجلاس کل یعنی جعمرات مے شروع ہونے جارہا ہے۔ نو روزہ موسم خزاں کے اس جلاس میں ہنگامب کی بہار آنے کے آثار ہیں۔ اجلاس کے دوران ،ریاستی درجہ بحالی،ریزرویشن پالیسی اوریومیہ مزدوروں کی مستقلی سمیت دیگر مسائل چھائے رہیں گے۔
جموں اسمبلی کا اجلاس کل یعنی جعمرات مے شروع ہونے جارہا ہے۔ نو روزہ موسم خزاں کے اس جلاس میں ہنگامب کی بہار آنے کے آثار ہیں۔ اجلاس کے دوران ،ریاستی درجہ بحالی،ریزرویشن پالیسی اوریومیہ مزدوروں کی مستقلی سمیت دیگر مسائل چھائے رہیں گے۔
ادھر،ذرائع کے مطابق، اسمبلی اجلاس کے لیے نیشنل کانفرنس نےاپنی ترجیحات طئے کرلی ہیں۔ پارٹی ترقیاتی منصوبوں،بجلی ،زرعی اصلاحات اور روزگارجیسے معاملوں کو شدومد سے اٹھائے گی۔
ذرائع کے مطابق ،اجلاس کا آغاز صبح 10 بجے ہوگا۔ پہلی نشست میں دنیا کو الوداع کہہ چکے سابق ارکان اسمبلی کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔اس دوران،سبھی جماعتوں کے ارکان تعزیت پیش کرینگے۔
ذرائع کے مطابق، اجلاس کے دوسرے دن یعنی جمعہ کے روز اسمبلی میں راجیہ سبھا کی چار سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ ایوان بالا کی یہ نشستیں2021سے خالی پڑی ہیں۔ واضح رہے کہ، اس دوران جموں کشمیر اسمبلی تحلیل تھی۔ خیال رہے کہ دفعہ370 کی منسوخی کےبعد پچھلے سال اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے۔
راجیہ سبھا کی تین نشتوں پر حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کی جیت یقینی مانی جارہی ہے کیوں کہ ایوان میں انھیں اکثریت حاصل ہے۔ انڈیا الائنس کے پاس 52 اسمبلی ممبران ہیں جبکہ اپوزیشن بی جے پی کے پاس 28 ارکان اسمبلی ہیں جبکہ دیگر پانچ ارکان اسمبلی بی جے پی کے حق میں ووٹ نہیں کریں گے۔ ادھر، پیپلزکانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ،آئندہ پیر سے اسمبلی کی کارروائی میں گرما گرمی دیکھنے کومل گی۔ اپوزیشن جماعتیں، حکومت کو ریاستی درجہ کی بحالی،ریزویشن پالیسی کی ازسرنو ترتیب اورترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد پر کہٹرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کریں گی۔
ادھر، اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے صاف کیا ہے کہ، بی جے پی نیشنل کانفرنس حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرے گی جسے انہوں نے ’انتخابی وعدوں سے خیانت‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے- چاہے وہ 200 مفت یونٹ بجلی، 12 ایل پی جی سلنڈر فی گھر، یا لوگوں کو دی گئی دیگر یقین دہانیاں ہوں۔ دیگراپوزیشن جماعتیں پی ڈی پی، پی سی، اوراے آئی پی بھی ریاستی درجہ، ریزرویشن اور خطے کو درپیش دیگر مسائل پرحکومت کو گھیرنے کوکمربستہ ہیں ۔
اسمبلی اجلاس میں بحث کا مرکز حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے تین سرکاری بل ہوں گے۔ کابینہ نے پہلے ہی جموں کشمیر پنچایتی راج ایکٹ 1989 اور گڈز اینڈ سروسز ٹیکس ایکٹ 2017 میں ترمیم کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر شاپس اینڈ بزنس اسٹیبلشمنٹ بل 2025 کو نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اسمبلی سکریٹریٹ کے مطابق، ارکان اسمبلی نے حکومت سے متعلقہ مختلف محکمہ جات کے لیے 450 تحریری سوالات کے علاوہ 13 پرائیویٹ ممبران بل اور 55 پرائیویٹ ممبرز کی قراردادیں اسمبلی میں بحث کے لیے رکھی گئی ہیں۔ 33 پرائیویٹ ممبرز بلز جو اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں پیش کیے گئے تھے، ایوان میں زیر التواء ہیں اور انہیں 28 اکتوبر کو کاروبار میں ترجیح دی جائے گی جو کہ پرائیویٹ اراکین کی قراردادوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔




