تیجسوی نے نوکری کا کیا وعدہ(فائل فوٹو اے این آئی)
تیجسوی نے نوکری کا وعدہ کرکے نتیش کی الجھن بڑھا دی ہے۔ آر جے ڈی نے اپنے وعدوں کو جیویکا دیدی اور کنٹریکٹ ورکر پر مرکوز کیا ہے۔ تیجسوی کا یہ داؤ بڑا ہے لیکن ان کے وعدوں پرووٹراعتماد کریں گے؟
انتخابات اور وعدے لازم وملزوم ہیں ۔ بہار میں بھی یہی ہورہا ہے۔ چناؤ کے بعد وعدوں کا کیا حشر کیا ہوتا ہے اس کے باوجود یہ روش انتخابی سیاست میں جاری وساری ہے ۔ بہار اسمبلی انتخابات میں وعدوں کا دور دورہ ہے۔ بہار کی سیاست کم و بیش تین دہائیوں سے جنگل راج بنام سوساشن (اچھی حکمرانی) میں الجھی ہوئی ہے ۔ اسی کی بازگشت 2025کے انتخابات میں سنائی دے رہی ہے ۔
انؒحابات کا پہلا مرحلہ 6 اور دوسرا11نومبر کو ہے۔ وقت کم ہے اس لیے سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو شیشے میں اتارنے کے لیے وعدوں کی جھڑی لگارہی ہیں ۔ بدھ کو ، آر جےڈی لیڈر تیجسوی یادو نے ایک کے بعد ایک کئی بڑے اعلانات کیے ۔ اس بار، تیجسوی یادو نے جیویکا دیدی اور کنٹریکٹ ورکروں کے لیے کئی بڑے اعلانات کیے ہیں، جن میں مستقل سرکاری نوکریاں، بلا سود قرض، انشورنس کوریج، اور ضمانت شدہ کم از کم اجرت جیسے اقدامات شامل ہیں۔
تیجسوی یادو کے مطابق، جیویکا دیدیوں کو ان کی خدمات کا صلہ نہیں ملا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نتیش حکومت نے ان کا استحصال کیا ہے۔ تیجسوی یادونے اعلان کیا کہ کمیونٹی موبلائزرز کے طور پر کام کرنے والی تمام جیویکا دیدیوں کو مستقل سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی اور انہیں ماہانہ تنخواہ ملے گی۔
انہوں نے تمام لیے گئے قرضوں پر سود معاف کرنے اور آئندہ دو سال کے لیے بلاسود قرض فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ ان کے مطابق یہ قدم ان لاکھوں خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا جو بہار کی دیہی ترقی میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تیجسوی کا دعویٰ ہے کہ اقتدارمیں آنے کے بعد وعدہ وفا کریں گے ۔
سیاسی ماہرین کی نظر میں تیجسوی یادو کے اعلانات صرف انتخابی وعدے نہیں ہیں بلکہ ریاست کی سیاست کو متاثر کرنے والا ایجنڈا ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ، یہ تیجسوی کا ایک اسٹریٹجک قدم ہے، جو سماج کے ان طبقات سے براہ راست اپیل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو ووٹروں پرخاصا اثر رکھتے ہیں۔ تاہم، بڑا سوال یہ ہےکہ ، کیا اتنے بڑے پیمانے پر استحکام اور مالی ضمانتیں فراہم کرنا عملی طور پر ممکن ہے؟
تیجسوی نے واضح کیا کہ تمام جیویکا دیدیوں کو کم سے کم 30 ہزار روپئےماہانہ تنخواہ ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ اب تک لیے گئے تمام قرضوں پر سود معاف کر دیا جائے گا، اور اگلے دو سال کے لیے بلا سود قرض کی سہولت دی جائے گی ۔
تیجسوی یادو نے یہ بھی اعلان کیا کہ جیویکا گروپ کی بہنوں کو دیگر سرکاری کاموں کے لیے ماہانہ 2,000 روپے کا اعزازیہ ملے گا۔ اس کے علاوہ ، ہر جیویکا بہن کو5 لاکھ روپئے تک کا انشورنس کور ملے گا۔ گروپ کے صدر اور خزانچی کے لیے بھی اعزازیہ کا اعلان کیا گیا۔آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ ان کی حکومتMAA اور BETI اسکیم بھی نافذ کرے گی۔
تیجسوی یادو نے اپنے دوسرے بڑے اعلان میں کہا کہ بہار میں تمام کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسیوں کے ذریعے کام کرنے والے ملازمین کو بھی مستقل سرکاری ملازم کا درجہ ملے گا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ یہ فیصلہ ان لاکھوں ملازمین کے فائدے کے لیے ہے جو برسوں سے عارضی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن ان کی نہ تو تنخواہ کی ضمانت ہے اور نہ ہی سروس سکیورٹی۔ تیجسوی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کنٹریکٹ ورکرس کے لیے گارنٹی سروس اور تنخواہ کو یقینی بنائے گی۔
تیجسوی یادو کے ان اعلانات کو نتیش کمار اور این ڈی اے کی پالیسیوں پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ گزشتہ 18 برسوں میں خواتین اور کارکنوں کے نام پر اسکیمیں بنائی گئی لیکن ان کے عزت نفس کا خیال نہیں رکھا گیا۔اس بیچ ، ماہرین کا خیال ہے کہ تیجسوی یادو اس طبقہ کو براہ راست اپنی طرف متوجہ کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، کیونکہ بہار میں جیویکا دیدی اور کنٹریکٹ ورکرس کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ انتخابی نتائج کو متاثر کرسکتے ہیں ۔
جہاں این ڈی اے ترقی اور استحکام کی بات کر رہا ہے، تیجسوی نے روزگار اور وقار کو اپنا نیا موضوع بنایا ہے۔ اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ آیا تیجسوی یادو مایوسی کے عالم میں عجلت میں وعدے کر رہے ہیں، یا یہ بہار کے لیے ان کا ویژن ہے ، جس کا اثر انتخابی نتائج میں نظر آئے گا۔ تیجسوی کے ان وعدوں پر ووٹر کتنا بھروسا کرتے ہیں یہ نتائج کے اعلان کے ساتھ صاف ہوجائیگا۔




