(فوٹواسکرین گریب انسٹاگرام)
ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھانا بھی اب جُرم ہے ۔ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی دنیا بھر میں مذمت ہورہی ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کے بیٹے بھی اپنے باپ کےنام تک سے پیچھا چھڑا رہے ہیں۔وہیں لکسمبرگ میں ایک مسلم خاتون ٹیچر کوصرف اس لیے عہدے سے برطرف کردیا گیا کیونکہ وہ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کررہی تھیں۔
لکسمبرگ کی ایک پرائمری اسکول کی مسلمان ٹیچر کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے ۔ وزارت تعلیم کے مطابق غزہ کی حمایت میں ان کی انسٹاگرام پوسٹس سامیت دشمنی (Anti-Semitic) کے اظہار پر مبنی تھیں۔ وزارت کے اس اقدام کے خلاف ٹیچر نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عہدے سے بربرف کی گئی ٹیچر فاطمہ کرتچ(Fatima Kurtic) بوسنیا میں ہونے والی نسل کشی(Bosnian Genocide) سے بچ جانے والوں میں شامل ہیں ۔ ان کاکہنا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر غزہ میں بچوں کی اموات اور اسرائیلی جارحیت پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد انہیں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا عزم
لکسمبرگ کی وزارت قومی تعلیم کاموقف ہے کہ فاطمہ کرتچ (Fatima Kurtic) کی بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں ایسا مواد موجود تھا سے وزارت نے یہود مخالف قرار دیا،اسی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ جب کہ فاطمہ کرتچ نے وزارت کے الزامات کو مسترد کردیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پوسٹس کسی مذہب یا قوم کے خلاف نہیں تھیں بلکہ اسرائیلی حکومت اور صیہونیت کی پالیسیوں پر تنقید پر مبنی تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ جنگی جرائم، بے گناہ شہریوں کے قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
فاطمہ کرتچ نے کہا کہ انہیں بغیر کسی پیش گی وارننگ کے ملازمت سے برطرف کیاگیا،جو ان کے اظہارِ رائے کی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔
اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ
انہوں نے مزیدبتایاکہ وہ انسٹاگرام پر بھی فلسطین کے حق میں سرگرم رہی ہیں اور لکسمبرگ کی ایک کمپنی کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی تھی،جس پر الزام ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں میں پیدا ہونے والی کھجوریں فروخت کرتی ہے۔
فاطمہ کرتچ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے سوشل میڈیاپر یہ دعویٰ کیاکہ وہ لکسمبرگ کے ایک بڑے ریٹیلر کو اسرائیلی مصنوعات کی فروخت روکنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئیں تو اس کے بعد ان کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی گئی۔
فلسطینیوں کے درد کااحساس
فاطمہ کرتچ نے کہا کہ چونکہ وہ خودبوسنیا کی نسل کشی کی متاثرہ ہیں، اس لیے فلسطینی عوام کے دکھ اور تکلیف کو سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ غزہ میں اپنے دوستوں کو ہمیشہ یہ پیغام دیتی رہی ہیں کہ جیسے بوسنیا کے عوام تمام تر مشکلات کے باوجود زندہ رہے اور ثابت قدم رہے، اسی طرح فلسطینیوں کو بھی امید اور حوصلہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔




