آبنائے ہرمز میں کشیدگی پھر عروج پر، امریکی حملوں کے بعد ایران کابھرپورجواب

Published On: 14 July, 2026 05:57 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
آبنائے ہرمز میں کشیدگی پھر عروج پر، امریکی حملوں کے بعد ایران کابھرپورجواب

(فوٹواے پی)

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بحال کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد امریکی فوج نے ایران میں متعدد حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے بحرین، اردن اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔

 امریکہ نے منگل کی صبح ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے، جن میں ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات کے علاوہ بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے۔

حملوں کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی جا رہی ہے اور آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے والے غیر ملکی جہازوں سے سکیورٹی فیس وصول کی جائے گی۔

ایران کا فوری اوربھرپور جواب
امریکی کارروائی کے جواب میں ایران نے بحرین، اردن اور متحدہ عرب امارات سے منسلک دو آئل ٹینکروں پر حملے کیے۔اماراتی حکام کے مطابق حملوں میں ایک ملاح ہلاک جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متعلقہ جہازوں نے متعدد انتباہات کو نظر انداز کیا تھا۔

ادھر بحرین میں میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر کئی بار سائرن بجائے گئے جبکہ اردن کی فوج نے ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائل فضا ہی میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ بحرین میں  امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر ہے۔

عبوری امن معاہدہ غیر یقینی صورتحال کا شکار
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا 60 روزہ عبوری معاہدہ، جس کا مقصد جنگ روکنا، آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنا اور مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا، اب شدید دباؤ کا شکار ہے۔

حالیہ حملوں اور ٹرمپ کی جانب سے ناکہ بندی بحال کرنے کے اعلان نے اس معاہدے کے مستقبل پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تجارت ہونے والے خام تیل اور قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

جنگ کے دوران ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں اور دھمکیوں کے باعث تیل، کھاد اور دیگر اشیا کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

تازہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر ایک ماہ کی بلند ترین سطح، 86 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

اگرچہ یہ قیمت جنگ کے عروج کے دوران دیکھی جانے والی تقریباً 120 ڈالر فی بیرل کی سطح سے کم ہے، تاہم ماہرین کے مطابق صورتحال مزید بگڑنے کی صورت میں عالمی مہنگائی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل مذاکرات جاری رکھنے پر متفق
دوسری جانب امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے وفود منگل کو روم میں مذاکرات کا نیا دور شروع کرنے والے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے سے متعلق فریم ورک معاہدہ گزشتہ ماہ سامنے آیا تھا، تاہم زمینی سطح پر اس پر پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ دوبارہ مکمل شدت اختیار کرتی ہے تو لبنان میں قائم نازک جنگ بندی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔