مکہ میں قائم قرآن میوزیم میں ایسے نمونے رکھے گئے ہیں جو ان مختلف اشیاء کی نمائندگی کرتے ہیں جن پر نزولِ وحی کے دوران قرآنِ کریم کی آیات لکھی جاتی تھیں۔
قرآن مجید آخری الہامی کتاب ہے، جو آخری نبی حضرت محمدﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ یہ نزول سے آج تک بلا کسی ادنیٰ تغیر و تبدل کے باقی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔
قرآن مجید کا نزول ضرورت و حاجت کے مطابق تھوڑا تھوڑا ہوا ، نزول کی ترتیب موجودہ ترتیب سے بالکل الگ تھی، یہ سلسلہ پورے عہد نبوی ﷺ پرمحیط رہا۔ ہر آیت کے نازل ہوتے ہی آپﷺ لکھوا لیتے تھے ۔ کاتبانِ وحی قرآن کی آیات کو چمڑے، کھجور کی شاخوں، پتھروں اور جانوروں کی ہڈیوں پر تحریر کیا کرتے تھے۔
یہ اسلامی تاریخ کا ابتدائی اور اہم مرحلہ تھا، جس کے ذریعے نزولِ وحی کے آغاز ہی سے قرآنِ کریم کی آیات محفوظ کی جاتی رہیں۔
مکہ مکرمہ کے ثقافتی ضلع حراء(Hira Cultural District) میں قائم قرآن میوزیم(Quran Museum) اسی تاریخی دور کی جھلک پیش کرتا ہے۔ یہاں ایسے نوادرات اور نسخے رکھے گئے ہیں جو ان ذرائع کی عکاسی کرتے ہیں، جن پر کاتبانِ وحی قرآنِ کریم لکھا کرتے تھے۔ یہ نمائش مستند تاریخی روایات کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔
چمڑے، ہڈیوں اور کھجور کی ٹہنیوں پر لکھی آیات
قرآن میوزیم میں قرون اولی کے ایسے نادر نسخے رکھے گئے ہیں جو ان مختلف اشیاء کی نمائندگی کرتے ہیں جن پر نزولِ وحی کے دوران قرآنِ کریم کی آیات لکھی جاتی تھیں۔
ان میں ادیم(Adeem) (دباغت شدہ چمڑا۔Tanned leather)، کھجور کی ٹہنیاں، لکڑی کے ٹکڑے، پتھر اور جانوروں کی ہڈیاں، خصوصاً کندھے اور پسلیوں کی ہڈیاں شامل ہیں، جو قرآنِ کریم کو ایک مصحف کی صورت میں جمع کیے جانے سے پہلے کتابت کے اہم ذرائع تھے۔
ان میں دباغت شدہ چمڑاسب سے زیادہ استعمال ہوتا تھا، کیونکہ یہ مضبوط، پائیدار اور تحریر کو محفوظ رکھنے کے لیے موزوں ماناجاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عہدِ نبوی ﷺ میں قرآنِ کریم کی بہت سی آیات اسی پر محفوظ کی گئیں۔
میوزیم میں رکھی گئی اشیاء کے ساتھ وضاحتیں بھی موجود ہیں، جن میں ہر اشیاء کی خصوصیات، اس کے استعمال کی وجوہات اور اس پر لکھنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔
علمی سفر
قرآن میوزیم اپنے زائرین کو ایک ایسے علمی و تاریخی سفر پر لے جاتا ہے جہاں قرآن کریم کی تاریخ، علومِ قرآن، اس کی کتابت، جمع و تدوین کے مراحل اور مختلف ادوار میں مصحفِ شریف کی ارتقائی تاریخ کو جدید طرز کی نمائش گاہوں اور انٹرایکٹو ٹیکنالوجی کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔
اس انداز میں علمی معلومات کو بصری تجربے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے تاکہ زائرین اس عظیم تاریخ کو بہتر طور پر جان اور سمجھ سکیں۔




