(فوٹورائٹرز)
غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے اسرائیلی حراست میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ تشدد، طویل تنہائی، طبی غفلت اور علاج سے محرومی کے نئے انکشافات کیے ہیں۔
غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے اسرائیلی حراست کے دوران اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ تشدد اور طبی غفلت سے متعلق نئی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسلسل مارپیٹ، طویل عرصے سے تنہائی میں قید اور مناسب طبی سہولتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ دسمبر 2024 سے بغیر فردِ جرم کے اسرائیلی حراست میں ہیں۔ ان کے تازہ بیان کے مطابق انہیں زیرِ زمین ریکیفیٹ (Rekefet) جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کے مطابق پہلے تشدد کی شکایات سامنے آنے کے باوجود حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔
ان کے وکیل ناصر عودہ نے حالیہ ملاقات کے بعد بتایا کہ انہیں ڈاکٹر ابو صفیہ سے براہِ راست ملنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ دونوں کے درمیان ایک تاریک شیشے کی دیوار تھی اور صرف ٹیلی فون کے ذریعے بات چیت ممکن ہوئی۔ ملاقات کے دوران دو نقاب پوش اہلکار قریب موجود رہے، جس پر وکیل اور مؤکل کے درمیان رازداری سے متعلق خدشات بھی پیدا ہوئے۔
ڈاکٹر ابو صفیہ نے بتایا کہ گزشتہ ملاقات کے چند روز بعد ان پر دوبارہ تشدد کیا گیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ تنہائی میں منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ اب تک موجود ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا ایکسرے سمیت طبی معائنہ تو کیا گیا، تاہم انہیں ان رپورٹس کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق چند روز تک صرف درد کش ادویات دی گئیں، جنہیں بعد میں بغیر کسی متبادل علاج کے بند کر دیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے سپریم کورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور انہیں متعدد بار طبی معائنہ فراہم کیا جا چکا ہے۔ تاہم حکام نے ان معائنوں کی رپورٹ جاری نہیں کی اور نہ ہی تشدد کے الزامات پر تفصیلی ردعمل دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ تازہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کے خلاف مبینہ تشدد ان کے وکیل کی گزشتہ ملاقات کے فوراً بعد دوبارہ شروع ہوا، جس کے باعث فوری آزادانہ طبی اور قانونی مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے۔
تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں، زیرِ زمین حراستی مرکز سے منتقل کیا جائے اور ان کی طویل تنہائی کا خاتمہ کیا جائے۔
اپنے وکیل کے ذریعے ڈاکٹر ابو صفیہ نے یہ بھی درخواست کی کہ انہیں ریکیفیٹ جیل سے منتقل کیا جائے اور تنہائی سے نکالا جائے۔ انہوں نے دائیں آنکھ میں تکلیف کی شکایت کرتے ہوئے ماہر امراضِ چشم سے معائنے کا مطالبہ بھی کیا۔
قانونی ٹیم کے مطابق ملاقات کے دوران ان کی آنکھ کی تکلیف واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔ ڈاکٹر ابو صفیہ نے اپنے چشمے واپس کرنے اور درد کی ادویات دوبارہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا، جن سے وہ مبینہ طور پر دورانِ حراست محروم ہیں۔




