(تصویربشکریہ غیرملکی میڈیا)
اکتوبر میں عام انتخابات کی تیاری کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل میں عام انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ کنیسٹ نے 17 جولائی(جمعہ) کو پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا بل منظور کیا ۔ بل کے حق میں 62 جبکہ مخالفت میں کوئی بھی ووٹ نہیں پڑا ۔ کنیسٹ کو تحلیل کرنے کا باضابطہ اعلان ہفتے کے روز کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کیے جانے سے قبل وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومتی اتحادی جماعتوں نے متعدد متنازع بل منظور کیے۔ جن میں میڈیا پرحکومتی کنٹرول کو بڑھانے کا قانون، اٹارنی جنرل کے بعض اختیارات کو محدود کرنے والا قانون اور فوجی خدمات سے بچنے والے آرتھوڈوکس (قدامت پسند،ہریڈی) نوجوانوں کی گرفتاری کو عارضی طور پر معطل کرنے کا قانون شامل ہے۔
پارلیمنٹ کی متوقع تحلیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نیتن یاہومشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اسرائیلی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اپوزیشن پارٹیوں کی حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جن کی قیادت سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور ایک مقبول اعتدال پسند سابق فوجی سربراہ کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی سیاسی تاریخ میں کسی حکومت کا اپنی مکمل 4 سالہ آئینی مدت پوری کرنا ایک غیر معمولی واقعہ ماناجاتا ہے۔
اس سے قبل آخری مرتبہ 1988 میں اسرائیلی حکومت نے قبل از وقت انتخابات کے بغیر اپنی مکمل مدت پوری کی تھی۔
اسرائیل میں وزارت عظمیٰ کے لیے مدت کی کوئی آئینی حد مقرر نہیں اور نیتن یاہو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے لیڈر ہیں، تاہم ان کے لیے بھی مکمل 4 سالہ مدت پوری کرنا ایک غیر معمولی بات ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے سروے کے مطابق وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد کو انتخابات کے بعد اپنی اکثریت کھونے کے خطرے کا سامنا ہے۔سروے کے مطابق سابق چیف آف سٹاف گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں صیہونی اپوزیشن پارٹی بلاک پارلیمنٹ کی 120 میں سے 61 نشستیں جیت سکتی ہے جو عرب پارٹیوں کی حمایت کے بغیر حکومت بنانے کے لیے کافی ہے۔
ایک ماہ سے زائد عرصے میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی سروے میں اپوزیشن کے اکثریت کی حد سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اب بھی 22 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ہونے کا امکان ہے، جو آئزن کوٹ کی یاشار پارٹی (21 سیٹیں) سے تھوڑا آگے ہے۔
تاہم، دیگر اپوزیشن جماعتوں جیسے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی ٹوگیدر، یائر گولان کی ڈیموکریٹک پارٹی، ایویگڈور لائبرمین کی یسرائیل بیتینو پارٹی اور سیاست دانوں کے درمیان نئے اتحاد یواز ہینڈل اور چلی ٹراپر کی حمایت اپوزیشن کو مطلوبہ 61 نشستوں تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس بیچ ، نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد کو صرف 50 کے قریب نشستیں حاصل ہونے کا اندازہ ہے، باقی 9 پر عرب جماعتوں کے پاس ہے۔




