سونم وانگچک اسپتال منتقل، ابھیجیت دیپکے نے شروع کی بھوک ہڑتال

Published On: 18 July, 2026 12:37 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
سونم وانگچک اسپتال منتقل، ابھیجیت دیپکے نے شروع کی بھوک ہڑتال

(فوٹورائٹرز)

گزشتہ 21 روزہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو سکیورٹی اہلکاروں نے اسپتال منقتل کردیا ہے۔ وانگچک مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔

 جنترمنتر پر سونم وانگچک(Sonam Wangchuk ) کی بھوک ہڑتال کے 21 ویں دن صبح غیرمعمولی ہلچل ہوئی ۔ 59 سالہ وانگچک کو سکیورٹی اہلکاروں نے اسپتال منتقل کر دیا، جہاں ان کی طبی نگرانی کی جا رہی ہے۔

سونم وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی تھی۔ وہ کاکروچ جنتا پارٹی(CJP)کے احتجاج کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جس میں مئی میں ہونے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم دھرمندر پردھان(Education Minister Dharmendra Pradhan ) کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کی صبح (18 جولائی) بڑی تعداد میں پولیس اہلکار احتجاج کے مقام پر پہنچے اور کچھ دیر بعد سونم وانگچک کو وہاں سے منتقل کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر پولیس سچن شرما(Deputy Commissioner of Police Sachin Sharma) کے مطابق عدالت کی ہدایت، طبی مشورے اور وانگچک کی صحت کے پیش نظر انہیں فوری طبی مداخلت کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس نے جنترمنتر پر دھرنا دینے والے بعض کارکنوں کو بھی ہٹا دیا۔ 
 
دہلی ہائی کورٹ( Delhi High Court ) نے دو روز قبل انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ وانگچک کی صحت پر کڑی نظر رکھی جائے اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کی جائے۔

احتجاجی تنظیم سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے(CJP founder Abhijeet Dipke ) نے الزام لگایا کہ پولیس نے وانگچک کو زبردستی وہاں سے ہٹایا، جبکہ خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق اسپتال میں ان کی حالت مستحکم ہے اور وہ ہوش میں ہیں۔

سی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز پر 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا جائے گا، تاکہ امتحانی اصلاحات اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبات دہرائے جا سکیں۔ ابھیجیت دپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔

سونم وانگچک گزشتہ برس بھی لداخ میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومتی الزامات کے تحت کئی ماہ جیل میں رہے تھے، تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
بھوک ہڑتال کے تیسرے روز وانگچک نے کہا تھا کہ اگر حکومت نے مطالبات نہ مانے تو وہ چھ ہفتے تک روزہ جاری رکھیں گے، تاہم انہیں امید تھی کہ جمہوری حکومت عوام کی آواز سنے گی۔