آبنائے ہرمزمیں حملہ ہواتوپل اوربجلی گھرکوبنایاجائے گانشانہ،ٹرمپ کی ایران کودھمکی

Published On: 22 July, 2026 08:27 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
آبنائے ہرمزمیں حملہ ہواتوپل اوربجلی گھرکوبنایاجائے گانشانہ،ٹرمپ کی ایران کودھمکی

(فوٹواے پی)

خلیج میں کشیدگی جاری ہے ۔ گزشتہ دس دنوں سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اس دوران، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دی ہے ۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(U.S. President Donald Trump) نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر  حملہ ہوا تو امریکہ جواب میں ایران کے  پل یا بجلی گھر کو نشانہ بنائے گا۔ 

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی ہر کارروائی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ گیارہویں روز بھی جاری ہے۔ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کے لیے اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ادھر، امریکی فوج نے بدھ کی صبح ایران میں ایک اور فضائی کارروائی کی، جس میں ڈرون ذخیرہ گاہوں اور طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مختلف صوبوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

امریکہ کے حملے،ایران کی جوابی کارروائی
ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن کے شہر عقبہ کی جانب میزائل داغے۔ اردن کی فوج کے مطابق چار میزائل اور چار ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے جبکہ دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے۔ بحرین میں بھی میزائل الرٹ جاری کیا گیا جبکہ سعودی عرب نے دمام کے رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی، تاہم بعد میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 11 روز کے دوران امریکی حملوں میں 53 افراد ہلاک، جن میں 6 خواتین اور تین بچے شامل ہیں، جبکہ تقریباً 600 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔


کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات
جنگ کے باعث عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً20 فیصد تیل اور گیس کی تجارت ہوتی ہے، بدستور غیر محفوظ ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی( Iranian Interior Minister Eskandar Momeni) نے سفارتی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کیا، تاہم جنگ بندی یا مذاکرات میں پیش رفت کے آثار نظر نہیں آئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں ہوا اور مختلف سطحوں پر پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

فلپائن میں ایک علاقائی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر کسی ملک کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر قبضہ کر کے جہازوں سے ٹول وصول کرنے یا حملوں کی اجازت دے دی گئی تو یہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال ثابت ہوگی۔

زیرِ تعمیر زیرِ زمین جوہری مرکزپر امریکہ کی نظر
دوسری جانب ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ ایران کے زیرِ تعمیر زیرِ زمین جوہری مرکز پک ایکس ماؤنٹین(Pickaxe Mountain) کو بھی مستقبل میں نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ تنصیب نطنز کے جوہری مرکز(Natanz nuclear enrichment site) کے قریب پہاڑ کے اندر تعمیر کی جا رہی ہے۔

ایران مسلسل یہ موقف دہراتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ تہران مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔