(تمام تصاویر رائٹرز)
غزہ کے جنوبی خیمہ کیمپوں میں ایک عام سا سگریٹ لائٹر اب روزمرہ زندگی کے لیے ناگزیر شے بن چکا ہے۔ مسلسل جنگ، ایندھن کی کمی اور بنیادی ضروریات کے فقدان نے اس کی قیمت 100 شیکل تک پہنچا دی ہے، جبکہ بے گھر خاندان کھانا پکانے اور روزگار جاری رکھنے کے لیے ایک ہی لائٹر پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
غزہ کے جنوبی علاقوں میں قائم خیمہ بستیوں میں ایک معمولی سگریٹ لائٹر اب خوراک، پانی اور ایندھن کی طرح زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خان یونس میں رہنے والی چار بچوں کی ماں نسرین ابو سعدہ کا کہنا ہے کہ گیس کی شدید قلت کے باعث وہ اور دیگر خاندان کھانا پکانے کے لیے گتے، پلاسٹک اور لکڑی کے ٹکڑے جلاتے ہیں، اس لیے لائٹر ہر وقت درکار رہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ سے پہلے تین لائٹر ایک شیکل(shekels) میں مل جاتے تھے لیکن اب ایک ہی لائٹر کی قیمت 100 شیکل (تقریباً 32 ڈالر) تک پہنچ چکی ہے، جو ان جیسے بے گھر خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔
نسرین ابو سعدہ کے مطابق اگر لائٹر دستیاب نہ ہو تو انہیں کسی دوسرے خاندان کے چولہے سے جلتا ہوا گتہ لا کر اپنے چولہے میں آگ جلانا پڑتی ہے۔ مسلسل قلت کے باعث اب ایک لائٹر کئی خاندانوں کے درمیان باری باری استعمال کیا جاتا ہے اور بار بار استعمال کے نتیجے میں جلد خراب ہو جاتا ہے۔
ٹوٹے لائٹر مرمت کرنا نیا ذریعۂ معاش
لائٹرز کی قلت نے بعض بے روزگار افراد کے لیے روزگار کا نیا راستہ بھی کھول دیا ہے۔تین بچوں کے والد حسن ابو لطیفہ، جو جنگ سے پہلے زرعی انجینئر تھے، اب ایک چھوٹے سے اسٹال پر خراب پلاسٹک لائٹر مرمت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لائٹر مرمت کرنا ان کا پیشہ نہیں تھا لیکن لوگوں کی ضرورت اور اپنی معاشی مشکلات نے انہیں یہ کام اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ان کے مطابق لائٹر اتنے مہنگے ہو چکے ہیں کہ زیادہ تر خاندان نیا خریدنے کے بجائے پرانا ہی مرمت کرواتے ہیں۔
جنگ نے تباہ کر دی معیشت
اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق غزہ میں بے روزگاری کی شرح 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ جنگ نے تقریباً پوری معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، جس کے باعث غربت تقریباً ہر گھر تک پہنچ چکی ہے۔
اگرچہ اکتوبر میں امریکی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی رک گئی، تاہم اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی اور وقفے وقفے سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انسانی امداد کی فراہمی کے حوالے سے بھی فریقین کے مؤقف مختلف ہیں۔ حماس کے زیرانتظام غزہ میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ امدادی سامان ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جبکہ اسرائیلی ادارہ کوگاٹ (COGAT)کا دعویٰ ہے کہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں پہنچنے والی خوراک عالمی خوراک پروگرام کی ضروریات سے زیادہ رہی ہے۔
لائٹر ہے تو کام ہے
چھ بچوں کی ماں افتخار الکفارنہ جو روایتی تنور میں روٹی پکا کر اپنے خاندان کا گزارہ کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ ایک معمولی لائٹر ان کے روزگار کی بنیاد بن چکا ہے۔
ان کے الفاظ میں،اگر لائٹر موجود ہو تو کام چلتا ہے اور اگر نہ ہو تو تین سے چار گھنٹے تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا پڑتا ہے۔