اسرائیلی وزیراتمار بن گویرسینکڑوں یہودیوں کے ہمراہ مسجداقصیٰ کے احاطے میں(فوٹو رائٹرز)
متعدد مسلم ممالک نےاسرائیلی وزراء اور سیکڑوں یہودیوں کے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ان مسلم ممالک نے اس اقدام کو اشتعال انگیز اور ناقابل قبول قرار دیا ہے ۔
8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے انتہا پسند اسرائیلی وزراء اور آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کی مسلسل بے حرمتی اور اشتعال انگیز اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج کی سکیورٹی میں انتہا پسندوں اور اسرائیلی وزراء کا مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہونا، وہاں اسرائیلی جھنڈا لہرانا اور آبادکاروں کی یلغار بین الاقوامی قوانین اور تمام عالمی پاسداریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ مقبوضہ مشرقی القدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی وزراء اور انتہا پسند گروہوں کے یہ اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں اور دو ریاستی حل کی راہ میں سخت رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر بیت المقدس کے قدیم شہر تک مسلمانوں کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔ مسجدِ اقصیٰ کے تمام احاطے پر صرف اور صرف مسلمانوں کی عبادت کا خصوصی حق تسلیم کیا جائے۔
وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس یا وہاں کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کو کوئی قانونی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔اردن کی ہاشمی سرپرستی اور مقدس مقامات کے انتظامات سنبھالنے والے محکمہ اوقاف کی قانونی حیثیت کا مکمل احترام کیا جائے۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے اسرائیل کو مقدس مقامات کی بے حرمتی، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی اقدامات سے روکے۔
مسجد اقصیٰ کا احاطہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے، جو مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس ترین مقام ہے جبکہ یہودیوں کے لیے یہ ان کا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے، جہاں ان کے عقیدے کے مطابق قدیم ہیکل موجود تھے۔
اس مقدس مقام تک رسائی کے حوالے سے کئی عشروں سے ایک status quo معاہدہ نافذ ہے، جو اسرائیل اور اردن کے بیچ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق یہودیوں کو وہاں صرف زیارت کی اجازت ہے، عبادت کی نہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں اتمار بن گویر اور دیگر یہودی زائرین متعدد مرتبہ اس ضابطے کو چیلنج کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں کھلے عام عبادت کر چکے ہیں۔
اگرچہ اسرائیلی حکومت عوامی سطح پر یہ موقف برقرار رکھے ہوئے ہے کہ مسجد اقصیٰ سے متعلق تاریخی اسٹیٹس کو پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم جمعرات کے روز پیش آنے والے واقعے جیسے واقعات مسلسل اسرائیلی فلسطینی تنازعے کو مزید بھڑکا رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔




