(فوٹورائٹرز)
نیٹ پیرلیک تنازع میں گھرے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ طلبہ کی یہ بڑی جیت ہے۔ دھرمیندرپردھان کے استعفے کے بعد جنترمنتر پر جشن کا ماحول ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے یہ ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
نیٹ پیپر لیک معاملے میں طلبہ کی بڑی جیت ہوئی ہے ۔ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے آج(ہفتے کے روز) اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔استعفے کے بعد جنتر منتر پراحتجاجیوں نے مٹھائیاں تقسیم کرکے خوشی کا اظہار کیا۔
دھرمندر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جنتر منتر اور ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ملک دشمن عناصر اس سے فائدہ نہ اٹھائیں، انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، جذبات اور جائز توقعات کا احترام کرتے ہیں۔
وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے، جبکہ طلبہ لیڈروں اور حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور بھی متوقع تھا۔
57 سالہ دھرمندر پردھان بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں اور 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مختلف اہم وزارتوں، جن میں پیٹرولیم، قدرتی گیس، اسٹیل، ہنرمندی کی ترقی اور تعلیم شامل ہیں، کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ وہ 2021 سے وزیرِ تعلیم تھے۔
معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے استعفے کو امن، صبر اور ثابت قدمی کی فتح قرار دیا ہے ۔ وانگچک طلبہ تحریک کی حمایت میں 26 روز تک بھوک ہڑتال پر رہے۔ یہ احتجاج مئی میں ہونے والے میڈیکل کالج کے داخلہ امتحان کے پیپر لیک ہونے کے بعد شروع ہوا تھا۔ پیپر لیک سے تقریباً 20 لاکھ امیدوار متاثر ہوئے، جس کے بعد حکومت کو امتحان دوبارہ کرانا پڑا۔
طلبہ تحریک 20 جون سے جاری تھی، تاہم پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کی لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا غصہ صرف پرچہ لیک ہونے تک محدود نہیں بلکہ بے روزگاری، بدعنوانی اور حکومتی جوابدہی جیسے مسائل بھی اس تحریک کا حصہ ہیں۔
دھرمندر پردھان، نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی بڑے تنازع کے باعث استعفیٰ دینے والے دوسرے مرکزی وزیر ہیں۔ اس سے قبل 2018 میں ایم جے اکبر نے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد وزارت چھوڑ دی تھی۔
گزشتہ چند روز کے دوران مغربی بنگال، تلنگانہ، کرناٹک اور تمل ناڈو سمیت مختلف ریاستوں میں بھی طلبہ، نوجوان کارکنوں اور اپوزیشن جماعتوں کے حامی وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے لیے احتجاج کرتے رہے۔




